خبرگزاری شبستان

پنج شنبه ۲۸ شهریور ۱۳۹۸

الخميس ٢٠ المحرّم ١٤٤١

Thursday, September 19, 2019

وقت :   Tuesday, February 6, 2018 خبر کوڈ : 71368
حجۃ الاسلام قاسم خانجانی:
خطبہ فدکیہ، تشیع کا منشور ہے
خبررساں ایجنسی شبستان: حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا مکمل آرام وسکون کے ساتھ خطبہ پڑھتی ہیں اورجن افراد سےگلہ اورشکوہ کرتی ہیں انہیں بھی احترام اورعظمت سے یاد کرتے ہیں:(یا مَعْشَرَ النَّقیبَةِ وَ اَعْضادَ الْمِلَّةِ وَ حَضَنَةَ الْاِسْلامِ)۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کے مطابق یہ جو ہم کہتے ہیں کہ خطبہ فدکیہ تشیع کا منشور ہے یہ کوئی تکلف نہیں ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا انتہائی آرام وسکون کےساتھ خطبہ پڑھتی ہیں اورجن سے گلہ وشکوہ بھی ہوتا ہے انہیں بھی احترام اوربزرگی سے یاد کرتے ہیں:( یا مَعْشَرَ النَّقیبَةِ وَ اَعْضادَ الْمِلَّةِ وَ حَضَنَةَ الْاِسْلامِ)۔ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے ان افراد کواثرورسوخ کرنے والے اوراسلام اورمسلمانوں کے بازووں کے ساتھ یاد کرتی ہیں کہ جنہوں نے دس سال پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کرتی ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ان کی چھوٹی سی بے احترامی نہیں کرتی ہیں اوریہ ہمارے لیے بہت بڑا درس ہے۔ جبکہ آپ نے اپنی زندگی کے بدترین لمحات میں یہ گفتگو کی ہےیعنی جب امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کے گھرمیں بے احترامی اوراہانت ہوئی ہے لیکن آپ ان کے لہجے میں احترام دیکھتے ہیں اورانتہائی صداقت کے ساتھ ان کی منافقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

تاریخ اسلام کےمحقق حجۃ الاسلام قاسم خانجانی نےمزید کہا ہے کہ یہ خطبہ، مکتب تشیع کا منشور ہے۔ بنابریں جب کہا جاتا ہےکہ ہمیں یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ خطبہ فدکیہ، فقط ایک خطبہ تھا۔ البتہ یہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ ہم اہل بیت علیہم السلام اور فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے تعلق اوراتصال کی وجہ سے یہ کررہے ہوں بلکہ اگرہم اس خطے کے مضمون  کا ملاحظہ کریں تو یہ چیز سمجھ آتی ہے۔

یہ خطبہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا سےآغازہوتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اورنبوت کی گواہی دیتی ہیں۔ اس خطبے میں اللہ کی معرفت اوراس پرایمان موجود ہے۔ چونکہ اس دورمیں ائمہ کا دورنہیں تھا۔ لہذا کلی طورپر ہدایت کے موضوع کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔ اس کے بعد دین کے فروعات اورفلسفہ احکام کوبیان کرتی ہیں۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اگرچہ اپنے اوپرہونے والے ظلم وستم اورنا انصافی کی وجہ سے مسجد میں جا یہ خطبہ دیا تھا لیکن آپ نے اس خطبے کے آخرمیں اس ظلم وستم اورناانصافی  کو بیان فرمایا ہے اورلوگوں سے شکوہ وشکایت کرنے کی بجائے خطبے کی ابتداء میں اعتقادی اوربنیادی مسائل کو بیان کرتی ہیں تاکہ لوگوں کے اذہان میں اچھی طرح بیٹھ جائے اوران پراثرانداز ہوسکے۔ یہی وجہ ہے کہ آج چودہ سوسال گزرنے کے بعد بھی یہ خطبہ اسی طرح مستحکم اور پائیدارباقی ہے اوراس پرمتعدد شرحیں لکھی جاچکی ہیں اوراس پرلکھی جانے والی متعدد حدیثی کتابیں اس خطبے کی اہمیت کو بیان کرتی ہیں۔

میرے نظریے کے مطابق شاید حضرت زہرا سلام اللہ علیہا یہ بیان کرنا چاہتی ہیں کہ پیغمبرکی بیٹی کے ساتھ تمہارا اس قسم کا برتاو تمہارے اعتقادات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا ہے۔ درحقیقت یہ فرمانا چاہتی ہیں کہ اگرکسی کےاندرتوحید اورنبوت کا عقیدہ موجود ہو تو یہ عقیدہ پیغمبرکی بیٹی کو اذیت پہنچانے میں رکاوٹ بن جاتا ہے اوراگرآج پیغمبرکی بیٹی کو آزارواذیت پہنچائی جارہی ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ مذکورہ عقیدہ مستحکم نہیں ہوسکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہےکہ ہم اسی وجہ سےاس خطبہ کو تشیع کا اہم ترین منشورقراردے رہے ہیں چونکہ اگر ایک معاشرہ اصلی اعتقادات اورنظریات کے تحت عمل نہ کرے تو وہ اپنے آپ کو نقصان پہنچا دے گا اوروہ خطرناک راستے پرگامزن ہوجائے گا۔ آج ہم اپنے معاشرے میں دیکھتے ہیں کہ کچھ افراد اپنے دینی اعتقادات اوراصولوں کا اظہارتو کرتے ہیں لیکن اسی گھر، خاندان اوراسی شخص کے اندر حلال وحرام سےغفلت کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔

687764

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز

سماجی: اسلامی جمہوریہ ایران کے شہر بندرعباس میں 8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز ہوچکا ہے جس میں دنیا بھر سے مسلمان دانشور، علماء، مفکرین اور عمائدین شرکت کررہے ہیں۔

منتخب خبریں