خبرگزاری شبستان

یکشنبه ۲۹ بهمن ۱۳۹۶

الأحد ٣ جمادى الثانية ١٤٣٩

Sunday, February 18, 2018

وقت :   Monday, February 12, 2018 خبر کوڈ : 71446
اصغرطاہرزادہ:
فقط اہل بیت(ع)کی ثقافت ہی اسلامی معاشروں کی نجات کا ذریعہ بن سکتی ہے
خبررساں ایجنسی شبستان: مغربی ثقافت میں نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ لوگ حکم الہی کے درپے ہونےکی بجائےتاکہ اپنی زمینی اورخاکی زندگی کو آسمان غیب سے متصل کردیں، انسان کی عقل کے درپے ہوگئے تاکہ اپنی خواہشات کو کنٹرول کرسکیں اورآج مختلف قسم کے بحرانوں کا شکارہیں۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کے مطابق مغربی ثقافت میں نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ لوگ حکم الہی کے درپے ہونےتاکہ اپنی زمینی اورخاکی زندگی کو آسمان غیب سے متصل کردیں،کی بجائےانسان کی عقل کے درپے ہوگئے تاکہ اپنی خواہشات کو کنٹرول کرسکیں اورآج مختلف قسم کے بحرانوں کا شکارہیں اورمغربی فکرجس قدراسلامی معاشروں میں سرایت کی ہےاسلامی معاشرے بھی اس حدتک اسی بحران میں مبتلا ہوئے ہیں۔ اسلامی معاشروں کی دوسری غلطی یہ ہےکہ وہ اسی بحران کی سبب مغربی فکرکے ذریعے ہی ان درپیش بحرانوں کو حل کرنا چاہتے ہیں جبکہ وہ اس بات سے غافل ہیں کہ جو چیز بشر کی نجات اورسعادت کا سبب ہے وہ الہی ولایت کو قبول کرنا اور  زمین کےنظام کو چلانےکے لیے آسمان غیب سےاحکام کو لینا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورہ توبہ کی آیات 30 اور31 میں  ان مشکلات اوربحرانوں کے سبب کو اس طرح بیان فرماتا ہے کہ یہودونصاریٰ نےاپنے علماء کو حق اورباطل کا معیارقراردیا اورعیسی علیہ السلام میں اللہ کے حلول کےمعتقد ہوگئے اوراللہ تعالیٰ کو اپنی زندگی اورمعاشرے کا رب ماننے سےانکارکرگئے۔ فرماتا ہے: «وَ مَا أُمِرُوا إِلاَّ لِیَعْبُدُوا إِلهاً واحِداً لا إِلهَ إِلاَّ هُوَ سُبْحانَهُ عَمَّا یُشْرِكُونَ" حالانکہ انہیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ خدائے واحد کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ ذات ان کے شرک سے پاک ہے۔

اگرچہ وہ ظاہری طورپر الہی دین پرعمل پیرا ہیں لیکن چونکہ تمام دینی اعمال میں ان کی توجہ زمین اورعالم مادہ پرہےتو اللہ تعالیٰ ان کےکام کو شرک جانتا ہے اورانہیں متنبہ کرتا ہےکہ اس قسم کی دینداری توحیدی نہیں ہے۔ وہ لوگ توحیدی زندگی بسرکرتے ہیں کہ جو اللہ کی رسی سے تمسک کرکے الہی بن جاتے ہیں اوروہ الہی دین کو زمین نہیں بناتے ہیں۔ بنابریں سیاسی اورثقافتی لحاظ سے معاشرے کی مینجمنٹ ایسے افراد کے اختیارمیں ہونی چاہیےکہ جن کا پورا وجود اللہ تعالیٰ کے ارادے کا ظہورہےاوراپنے پورے وجود کے ساتھ اس کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ لہذا حضرت امام صادق علیہ السلام اس آیہ مجیدہ «وَلِلّهِ الأَسْمَاء الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا» کی تفسیرمیں فرماتے ہیں: «نَحْنُ وَ اللَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى الَّذِی لَا یُقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِمَعْرِفَتِنَا قَالَ فَادْعُوهُ بِه» اللہ کی قسم ہم ہی اسمائے حسنی الہی ہیں کہ ہماری معرفت کے بغیربندوں کی کوئی چیزقابل قبول نہیں ہےکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان اسمائے حسنہ کے ذریعےاسے پکارو۔ یافرماتے ہیں: «اِنَّ قُلُوبَنا اَوعِیةُ مَشِیةِ اللّهِ فَاِذا شاءَ شِئْنا» ہمارے دل اللہ کے ارادے اورمشیت کے ظرف ہیں اورجو کچھ وہ چاہتا ہے ہم بھی وہی چاہتے ہیں۔ بنابریں اگریہ انسان، معاشرے کی مینجمنٹ کو اپنے ہاتھ میں لےلیں تو معاشرے کی آنکھ ہمیشہ اللہ کی طرف متوجہ ہوگی اورمادیات کےخطرے سےسنجات پیدا کرلے گی۔

686326

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

آیت اللہ سید ہاشم حسینی بوشہری:

حضرت فاطمہ زہرا(س) ایران کے اسلامی اور انقلابی معاشرے کیلئے آئیڈیل ہیں

سماجی: ایران کے نامور عالم دین اور خبرگان اسمبلی کے ممبر نے کہا امام زمانہ(عج) حضرت فاطمہ زہرا(س) کو آپنا آئیڈل قرار دیتے ہیں پس حضرت زہرا(س) ہمارے اسلامی اور انقلابی معاشرے کیلئے بھی آئیڈیل ہیں۔

منتخب خبریں