خبرگزاری شبستان

سه شنبه ۲۶ تیر ۱۳۹۷

الثلاثاء ٥ ذو القعدة ١٤٣٩

Tuesday, July 17, 2018

وقت :   Tuesday, February 13, 2018 خبر کوڈ : 71464

حضرت زہرا(س) کی شہادت سےمربوط واقعات کا تجزیہ وتحلیل
خبررساں ایجنسی شبستان: فاطمیہ اول درحقیقت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی بیماری کا آغاز ہے کہ جو 3جمادی الثانی تک جاری رہتا ہے اورانہیں ایام کے دوران حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے شکم مبارک میں موجود بیٹا شہید ہوا تھا۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق ایام فاطمیہ کی آمد کی مناسبت سےخبررساں ایجنسی شبستان کے قرآن ومعارف گروہ نےتاریخ اسلام کے محقق حجۃ الاسلام محمد ہادی یوسفی غروی سے گفتگو کی ہے کہ جس میں انہوں نے حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کی شہادت سےمربوط واقعات کی وضاحت کی ہے۔

پہلا سوال: حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کی تاریخ میں کیوں اختلاف پایا جاتا ہے کیا اس حوالےسے ہمارے پاس دو قسم کی روایات موجود ہیں؟

جواب: ایام فاطمیہ کےحوالےسےمختلف اقوال موجود ہیں۔ ایک نقل کےمطابق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے چالیس دن بعد حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کی شہادت واقع ہوئی ہے البتہ یہ قول کوئی مضبوط اورمستحکم نہیں ہےاورممکن ہے کہ اس قول میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے گھرپرحملےکےآغاز کو شہادت سے تعبیرکیاگیا ہےکیونکہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے بیعت لینے کےلیےآپ کے گھرپرحملہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت سے چالیس یا کم وبیش دن کے بعد کیا گیا تھا کیونکہ ان واقعات سے مربوط رپورٹس میں رسول اکرم کے صحابی بریدہ بن خصیب اسلمی کا نام دیکھا جاتا ہےکہ جو بنی اسلم قبیلے میں سےتھا اورہ مدینہ کے قبائل سے تعلق رکھتا تھا اوروہ فتح مکہ میں موجود تھا۔ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں بیماری کے دوران اسامہ بن زید حارث کلبی کی سربراہی میں ایک لشکر شام کی طرف روانہ کیا تھا کہ بریدہ بن خصیب اسامی اس لشکرکا علمبردارتھا۔ شدیدبیماری کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس لشکر کو روانہ کرنےکی بہت زیادہ تاکید کررہے تھے اسی وجہ سے آپ اسامہ کےلشکرکی روانگی کے متعلق باربارپوچھ رہے تھے لیکن افسو س سے کہنا پڑتا ہےکہ آنحضرت کی اتنی زیادہ تاکید کےباوجود یہ لشکرروانہ نہ ہوسکا۔

سوال: کیا اسامہ کے لشکر کو شام روانہ کرنے کے لیے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتنی زیادہ تاکید کی کوئی خاص وجہ تھی؟

جی ہاں، ہمارے علماء بالخصوص شیخ مفید اوران سے پہلےکےعلماء نےخاص طورپراشارہ کیا ہے کہ اس لشکر کو شام کی جانب روانہ کرنےکی تاکید کی وجہ یہ تھی کہ پیغمبراکرم کی رحلت کے وقت بعض اصحاب(بالخصوص خلیفہ اول اوردوم) مدینہ میں موجود نہ ہوں تاکہ آنحضرت کی رحلت کےبعد حضرت علی علیہ السلام کی خلافت مستحکم ہوجائے لیکن ایسا نہ ہوسکا اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد انصاراورمہاجرین کے بعض افراد نے سقیفہ بنی ساعدہ میں ابوبکرکو خلافت منتقل کردی۔ تاریخ اسلام کی ایک قدیمی کتاب محمد بن عمرواقدی کی کتاب( المقاضی) میں آیا ہےکہ یہ لشکرتقریبا چالیس دن کےبعد مدینہ واپس آگیا۔ بنابریں بریدہ بن خصیب اس وقت مدینہ میں پہنچا کہ جب خلیفہ اول کی خلافت قائم ہوچکی تھی۔ برید یہ پرچم اپنے قبیلےمیں لے گیا اورتاریخ میں ہےکہ اس نے دو قسم کےنعرے لگائے تھے۔ پہلا یہ کہ جب تک علی علیہ السلام بیعت نہیں کرتے ہم بھی بیعت نہیں کریں گے اوردوسرا یہ کہ ہم علی علیہ السلام کےعلاوہ کسی کی بیعت نہیں کریں گے۔ لیکن حالات کے پیش نظر جو نعرہ اس وقت زیادہ مناسب تھا وہ یہ ہے کہ جب تک علی علیہ السلام بیعت نہیں کرتے ہم بھی بیعت نہیں کریں گے۔

سوال:لوگوں کی جانب سےخلیفہ اول کی بیعت کے باوجود حکومت، امیرالمومنین علیہ السلام سے بیعت لینے پرکیوں اصرارکررہی تھی؟

مرحوم سید مرتضیٰ نے اپنی کتاب( الشفا فی الامامہ)اوران کے شاگرد شیخ طوسی کہ جنہوں نے اس کتاب کو منظم اوراس کا خلاصہ کیا ہے ، نے(کتا ب المعرفہ) کہ جو تاریخ کی قدیمی ترین کتاب ہے،میں ابی اسحاق ابراہیم بن محمد ثقفی کوفی اصفہانی سے نقل کیاہے کہ بریدہ بن خصیب اس نعرے کے ساتھ اپنے قبیلےمیں گیا اوراس نے اپنے ساتھ اسی افراد کو ملا کرمدینہ کی گلیوں میں مظاہرہ شروع کردیا۔ دوسری جانب جزیرۃ العرب کے اطراف میں کئی دیگرمشکلات پیش آگئیں تھیں،کیونکہ کچھ افراد ابوبکرکی خلافت پراعتراض کررہے تھے۔ بعض اسلام سے مرتد ہوگئے تھے اورکچھ لوگ خلیفہ اول کو زکواۃ دینےکےلیےتیارنہ تھےاوربعض نےتو نبوت کا دعویٰ کردیا تھا۔ بنابریں حکومت اس نتیجے پرپہنچی کہ اگراسی طرح ہوتا رہا اورعلی علیہ السلام سے بیعت لینےکےمسئلے میں نرمی برتی گئی تو ہرروز مشکلات میں اضافہ ہوتا جائےگا۔ لہذا انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہرقیمت پر امیرالمومنین علیہ السلام سےبیعت لینی چاہیےچاہے زبردستی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ بنابریں وہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے گھرکی جانب روانہ ہوگئے۔ پہلےمرحلے میں امیرالمومنین علیہ السلام نے بحث وگفتگو کے بعد انہیں واپس پلٹا دیا تھا البتہ پہلے مرحلے میں آنے اورپھردوسری مرتبہ آنے کے درمیان وقت کی کوئی دقیق تاریخ معلوم نہیں ہےلیکن کم ازکم آنحضرت کی رحلت کے چالیس دن سے زیادہ کے ایام تھے۔ ظاہری طورپریہ چیز باعث بنی ہے کہ بعض نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کو انہیں ایام میں قراردیا ہے۔ لیکن اصل میں یہ امیرالمومنین علیہ السلام سے بیعت لینے کا آغاز تھا کہ جو شاید د ویا تین ہفتے تک جاری رہا یعنی ہرمرتبہ  گھرمیں آنےکا فاصلہ ایک ہفتے کا تھا اورپھرآنحضرت کی رحلت کے 75دن بعد کہ جو ہمارے ملک میں ایام فاطمیہ اول کے نام سے مشہورہیں اوریہ جمادی الاول کے نصف کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں۔

سوال : فاطمیہ اول کیوں منایا جاتا ہے اورتاریخ لحاظ سے ان ایام میں کونسے کے واقعات رونما ہوئے ہیں؟

جمادی الاول کےنصف میں درحقیقت امیرالمومنین علیہ السلام سے بیعت لینےکا آخری موقع تھا کہ جو حضرت امیرعلیہ السلام کے گھرپرحملے کا سبب بنا تھا۔ یعنی گھرکا دروازہ ٹوٹ گیا یا اگرگھربند تھا یا اس میں کوئی تالا وغیرہ تھا تو اسے توڑا گیا اورپھرلوگ گھرمیں داخل ہوگئے اورامیرالمومنین علیہ السلام کو بیعت کے لیےمسجد میں لےگئے اورمجالس میں جو واقعات بیان کیے جاتے ہیں وہ  انہیں ایام سےمربوط ہیں۔ امیرالمومنین علیہ السلام سے زبردستی بیعت لی گئی یعنی ہاتھ باندھ کر اور دوڑاتےہوئے امیرالمومنین علیہ السلام کو خلیفہ اول کے پاس لے گئے جبکہ خلیفہ مسجد النبی میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبرپربیٹھا ہوا تھا۔ امیرالمومنین علیہ السلام کو منبرکے پاس لائے اورچونکہ آپ بیعت سےانکارکررہے تھے تو انہوں نےانہیں بندھے ہوئے ہاتھوں کو ابوبکر کے ہاتھ پررکھ دیا اورپھرشورمچانا شروع کردیا کہ(بایع علی، بایع علی ۔ ۔ ۔ علی علیہ السلام نے بیعت کرلی ہے۔ جبکہ لوگ دیکھ رہے تھےکہ آپ نےاختیاری حالت میں بیعت نہیں کی ہے۔

سوال:ایک یہ اعتراض پیش کیا جاتا ہےکہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے بعد امیرالمومنین علی علیہ السلام نے اپنے اختیارکے ساتھ خلیفہ اول کی بیعت کرلی تھی کیا یہ درست ہے؟

اس سوال کا جواب مفصل ہے۔ بعض نے دعویٰ کیا ہےکہ خلیفہ اول کیونکہ مرتد افراد یا زکواۃ ادا نہ کرنے والوں اورخلافت کےمخالفین کا مقابلہ کرنے کےلیےلشکربھیجنےکے درپے تھا اوردوسری جانب اہل مدینہ چونکہ حضرت علی علیہ السلام کی زبردستی بیعت کو صحیح نہیں جانتےتھے،لہذا انہوں نے صبراورانتظارکی سیاست اختیارکررکھی تھی اوروہ لشکرتیارکرنے کےلیےآمادہ نہیں تھے توعلی علیہ السلام نےاسلام کی مصلحت کی خاطرابوبکرکی بیعت کرلی تھی اوریہ بیعت مجبوری اوراضطراری کی حالت میں تھی۔ اس دعویٰ کے اثبات کے لیے نہج البلاغہ میں امیرالمومنین علیہ السلام کے فرمان کا حوالہ دیا جاتا ہے۔(حتی راجعت الاسلام قد رجعت ترید محق دین محمد (ص)... ) جب میں نے دیکھا کہ لوگ اصل دین سے پلٹ رہے ہیں اورپیغمبرکے دین کو تباہ کرنےکا ارادہ رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔) لیکن کچھ ایسی دلیلیں موجود ہیں کہ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شہادت کے بعد یہ بیعت نہیں ہوئی تھی۔ ان دلیلوں میں سےایک دلیل خلیفہ اول اوردوم کا حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سےملاقات کا مطالبہ تھا کہ آپ نےملاقات کی اجازت نہ دی۔ دوسری مرتبہ امیرالمومنین علیہ السلام نے تقاضا کیا تو حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا سےمشورے کے بعد امیرالمومنین علیہ السلام نےملاقات کی اجازت دے دی ۔ یہ اس بات کی دلیل ہےکہ اس وقت بیعت ہوچکی تھی کیونکہ اگرایسا نہ ہوتا تو وہ حضرت امیرعلیہ السلام سےحضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے ملاقات کرنے اوران کے گھرمیں داخل ہونے کی اجازت کس طرح مانگتے اورامیرالمومنین علیہ السلام نے بھی واسطےکا کردارادا کیا تھا۔

سوال: کیا تاریخی کتابوں کےمطابق فاطمیہ دوم حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کا وقت ہے؟

جی ہاں۔ جو قول رحلت پیغمبرکے بعد حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کو ترجیح دیتا ہے وہ قابل اعتبارنہیں ہے۔ فاطمیہ اول،حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کا وقت نہیں ہے بلکہ وہ آپ کی بیماری اورآپ کے گھرپرحملےکا زمانہ تھا کہ جس کی وجہ سےآپ کے شکم مبارک میں موجود بیٹا شہید ہوگیا تھا۔ آپ کی شہادت درحقیقت 3جمادی الثانی کو ہوئی تھی یعنی پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے تین ماہ بعد کہ جوہمارے ملک میں فاطمیہ دوم کےنام سےمشہورہے۔

689398

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

حضورقلب کے مقابلےمیں قوہ خیال کی بیہودگی

خبررساں ایجنسی شبستان: حواس باختہ ہونے کا اصلی اوربنیادی سبب قوہ خیال کی بیہودگی اوراس کا فرارکرنا ہے۔ انسان ایک ایسی قوت کا مالک ہے کہ جو ہمیشہ اس کے ذہن اورخیال کو استعمال کرتی ہے۔

منتخب خبریں