خبرگزاری شبستان

یکشنبه ۶ خرداد ۱۳۹۷

الأحد ١٣ رمضان ١٤٣٩

Sunday, May 27, 2018

وقت :   Wednesday, February 14, 2018 خبر کوڈ : 71483

مظلومیت اورطاغوت کی بیعت نہ کرنا،امام زمانہ (عج) کا مادری ورثہ ہے
خبررساں ایجنسی شبستان: امام مہدی علیہ السلام فرماتے ہیں: «ِفی ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ لِی أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی میرے لیے نمونہ عمل ہے۔

خبررساں ایجنسی شبستان کے نامہ نگارکی رپورٹ کےمطابق مسجد مقدس جمکران کے ٹیلیگرام میں امام مہدی علیہ السلام اورحضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی مشترکہ خصوصیات کےعنوان سےمطالب میں آیا ہے:

امام مہدی علیہ السلام فرماتے ہیں: «ِفی ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ لِی أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی میرے لیے نمونہ عمل ہے۔(1)

ان دونوں معصومین علیہم السلام کی خصوصیات کے پیش نظر امام زمانہ علیہ السلام کا یہ جملہ ظاہرہوتا ہے۔

1۔ مظلومیت

 ان دونوں ہستیوں کی پہلی مشترکہ خصوصیت،ان کی مظلومیت ہے۔ ہم حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی زیارات میں پڑھتے ہیں:«السَّلَامُ عَلَیْکِ أَیَّتُهَا الْمَظلُومَة المقهوره (2) اے مظلومہ اورستمدیدہ آپ پرسلام ہو۔

ابن الشیخ اپنی کتاب(امالی) میں لکھتے ہیں: جب پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا وقت نزدیک آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر روئےکہ آپ کی داڑھی ترہوگئی۔

عرض کیا گیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کیوں گریہ کررہے ہیں؟

انہوں نے فرمایا: میرے بعد میری امت کے ظالم افراد کی جانب سےمیری اہل بیت پرجو ظلم وستم ہوگا، میں اس پرگریہ کررہا ہوں۔ گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ میری بیٹی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا میرے بعد مظلوم واقع ہوگی، وہ جتنی بھی فریاد کریں گی اورکہیں گی: یا ابتاہ، میری امت میں سے کوئی اس کی فریاد نہیں سنے گا۔

جب حضرت فاطمہ اطہرسلام اللہ علیہا نے یہ بات سنی کو گریہ کیا۔ پیغمبراکرم صلی اللہ  علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے میری عزیز بیٹی، گریہ نہ کرو۔

جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا نے کہا: باباجان آپ کے بعد مجھ پرہونے والے ظلم پرگریہ نہیں کررہی ہوں بلکہ آپ کی جدائی میں رو رہی ہوں۔

پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے دخترمحمد، آپ کو بشارت ہو کیونکہ آپ میری اہل بیت میں سے سب سے پہلےمجھ سے ملیں گی۔(3)

امیرالمومنین علی علیہ السلام نے اپنی زوجہ کی مظلومیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:«إنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ( ص) لَمْ تَزَلْ مَظْلُومَةً مِنْ حَقِّهَا مَمْنُوعَة (4) پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی فاطمہ نے ہمیشہ ظلم سہے اوراپنےحق سےمحروم ہوگئی تھیں۔

امیرالمومنین امام علی علیہ السلام نے اپنے بیٹے مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی مظلومیت اورغربت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:«صَاحِبُ هَذَا الْأَمْرِ الشَّرِیدُ الطَّرِیدُ الْفَرِیدُ الْوَحِیدُ » (5)

امام موسیٰ بن جعفرعلیہ السلام سے صاحب الامرکے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: وہ اپنے خاندان کے تن تنہا غریب ہیں کہ جو اپنے جد کے خون کا بدلہ لینے کے لیے قیام کریں گے۔(6)

2۔ طاغوت کی بیعت نہ کرنا

خلافت کوغصب کرنے والے غاصبوں نے اپنی خلافت کو جائزقراردینےکےلیے تمام لوگوں بالخصوص حضرت علی علیہ السلام اورحضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے بیعت لینےکی کوشش کی لیکن حضرت زہراسلام اللہ علیہا نے تمام مصیبتوں اورمشکلات کو برداشت کرتے ہوئے اپنی مبارک زندگی کے آخری لمحہ تک حکومت کے غاصبوں کی بیعت نہیں کی تھی بلکہ خلافت کو اپنے اصلی راستے پرپلٹانے کےلیے جدوجہد کی ۔ (8) ان سے بات تک نہیں کی یہاں تک کہ پیغمبرکی وفات کے چھ مہینے کے بعد ان کی وفات ہوگئی اورحضرت علی علیہ السلام نے رات کو انہیں دفن کیا اور فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پرنمازجنازہ پڑھنےاورانہیں دفن کرنے پرابوبکر کوخبرنہ دی۔(9)

امام مہدی علیہ السلام بھی پردہ غیبت میں ہیں تاکہ ان کی گردن پرکسی بیعت نہ ہو۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: جب ہمارے قائم قیام کریں گے تو ان کی گردن پرکسی کی بیعت نہیں ہوگی۔ یہی وجہ ہےکہ ان کی ولادت مخفی ہوگی اورآنکھوں سےاوجھل ہوگی۔ (10)

حضرت امام مہدی علیہ السلام فرماتے ہیں: میرے تمام  آباوا جداد پرسرکش اورظالم بادشاہوں کی بیعت تھی لیکن جب میں قیام کروں گا تومیری گردن پرکسی ظالم کی بیعت نہیں ہوگی۔(11)

مآخذ:

۱- کلمات قصار امام زمان (عج) ص۲۰

۲-زیارت حضرت فاطمه (سلام الله علیها) مفاتیح الجنان

۳- ترجمۀ جلد دهم بحار الانوار: در زندگانی حضرت فاطمه سلام الله علیها ، ترجمۀ نجفی ص۱۷۴

۴- شیخ طوسی، امالی، ص ۱۵۶

۵- کمال الدین و تمام النعمه ج ۱ ص۵۶۳ ح ۱۳

۶-مکیال المکارم ج ۱ ص۱۸۰به نقل ازکمال الدین ج۲ ص۳۶۱

۷- عنایات حضرت مهدی(عج) به علما و طلاب، ص ۱۷۶

۸- ویژگی های امام مهدی و حضرت زهرا (س) ، علی مصلحی، حوزہ کی سائٹ

۹-صحیح مسلم- کتاب الجهاد و السیر – باب ۱۶

باب قول النبی صلی الله علیه و سلم، لانورث ما ترکنا فهو صدقه) حدیث ۱۷۵۹

۱۰- کمال الدین و تمام النعمه ج۱ ص۵۶۴

۱۱- کمال الدین ج ۲ ص۲۳۹

689346

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

خطیب مسجد فتح قاہرہ:

تمام آسمانی کتب ماہ مبارک رمضان میں نازل ہوئیں

سماجی: مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں مسجد فتح کے خطیب نے کہا تمام آسمانی کتب ماہ مبارک رمضان میں نازل ہوئی ہیں۔

منتخب خبریں