خبرگزاری شبستان

یکشنبه ۲۶ خرداد ۱۳۹۸

الأحد ١٣ شوّال ١٤٤٠

Sunday, June 16, 2019

وقت :   Monday, February 19, 2018 خبر کوڈ : 71553

کیا فدک حضرت زہرا(س) کےموقوفات میں سے تھا یا نہیں؟
خبررساں ایجنسی شبستان: کسی نےبھی فدک کو حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کےصدقات اورموقوفات میں سے قرارنہیں دیا ہےبلکہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے کلام کی بنا پرفدک ان کی ملکیت تھی اوربنی امیہ اوربنی عباس کےخلفاء نے بھی اسے آنحضرت کا ورثہ قراردیتے ہوئےاسے ان کی اولاد کےسپرد کیا تھا۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق حضرت زہرا مرضیہ سلام اللہ علیہا کی مختصر زندگی بہت زیادہ برکات پرمشتمل تھی اوران کی معنوی برکات نے پوری تاریخ اسلامی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ مفسرین نےسورہ کوثرکےذیل میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا اوران کی اولاد کو خیرکثیر اورکوثرکا حقیقی مصداق قراردیا ہے(1) کہ جسے اللہ تعالیٰ نےاپنے پیغمبرکو عطا کیا ہے۔ بنابریں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی وجودی برکات کو فقط معنوی امورمیں ہی منحصرقرارنہیں دیا جاسکتا ہے۔ وہ موقوفات اورصدقات کے باب میں دنیا کی برترین خاتون ہیں اوراپنے والد گرامی کی طرح اپنے پورے مال کو فقراء اورمساکین کو پیش کردیا تھا۔

علامہ مجلسی کہتے ہیں: سید بن طاووس نے اپنے بیٹے سےکہا: اے میرے بیٹے آپ کی دادی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےالعوالی اورحیطان سبعہ جیسے موقوفات اورصدقات  کا شماران اموال میں سے ہوتا تھا کہ جنہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ اورلڑائی کے بغیرحاصل کیا تھا اور اس میں کوئی بھی شریک نہیں تھا اوریہ آپ کی ملکیت تھی اور(فئی) شمارہوتا تھا۔ اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں ہی اسے اپنی بیٹی کو بخش دیا تھا۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے بھی اسےاللہ کی راہ میں وقف کردیا تھا۔

اس کے بعد سید بن طاووس نےمزید کہا ہےکہ اے میرے بیٹے اس کی قدروقیمت کے لیےاتنا ہی کافی ہے کہ ان میں سے بعض اموال کی سالانہ آمدنی 24000 سے70000ہزاردرہم تک تھی۔ (2)

حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کےصدقات

الف) ام العیال: یہ ایک ایسے چشمےکا نام ہےکہ جس کی برکت سے اس کےاطراف میں ایک بہت بڑا دیہات بن گیا تھا۔ یہ دیہات مکہ اورمدینہ کے درمیان (آرۃ) نامی قلعہ کے نزدیک واقع تھا۔ اس دورمیں اس میں20000 سے زائد کھجوروں کےدرخت تھے اورآج بھی وہاں پرلیموں، انگوراورکیلے جیسے مختلف پھل حاصل ہوتے ہیں۔ ام العیال مدینہ منورہ سے 170کلومیٹر اور(سقیا) کے مشرق میں 56کلومیٹرکے فاصلے پرواقع ہے۔(3)

عرام بن اصبغ سلمی کہ جو ایک قابل اطمینان ہے اور 275ہجری قمری تک زندہ تھا اور(تہامہ) نامی علاقے کی شناخت میں خاص مہارت رکھتا تھا۔(4)وہ کہتا ہے کہ ام العیال، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا صدقہ اورموقوفہ ہے۔(5) آج بھی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اولاد اس سےاستفادہ کرتی ہے اورحضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی جانب سے یہ سرزمین اوریہ چشمہ، حسینی سادات کے لیے وقف ہوگیا ہوا ہے۔(6)

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےموقوفہ سات باغات

ب)حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کے وصیت نامہ میں صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کے دیگر موقوفات کے بارے میں اس طرح آیا ہے۔ ابوبصیرکہتا ہے کہ امام باقرعلیہ السلام نےفرمایا: کیا میں اس بارے میں اپنی ماں فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے وصیت نامے کو پڑھوں؟ ہم بھی اس کو پڑھنے کی درخواست کی تو امام علیہ السلام نے ایک چھوٹے سے برتن یا زنبیل کو نکال کر اس میں لکھی ہوئی عبارت کو اس طرح پڑھا:

«بسم الله الرحمن الرحیم، هذا ما اوصت به فاطمة بنت محمد رسول الله - صلی الله علیه و آله - اوصت بحوائطها السبعة، العواف و الدلال و البرقة و المیثب و الحسنی و الصافیة و ما لام ابراهیم الی علی بن ابی طالب فان مضی علی فالی الحسن فان مضی الحسن فالی الحسین فان مضی الحسین فالی الاکبر من ولدی. شهد الله علی ذلک و المقداد بن الاسود و الزبیر بن عوام و کتب علی بن ابی طالب - علیه السلام -»; (7)

یہ وہ وصیت نامہ کہ پیغمبراکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نےجس کی وصیت کی تھی۔ اس میں وصیت کی کہ زمینیں اوردیوارپرمشتمل مندرجہ ذیل سات باغات : العواف، الدلال، البرقہ ،المثیب، الحسنی، الصافیہ اورمشربہ ام ابراہیم،علی بن ابی طالب علیہ السلام کے اختیارمیں ہیں اوراگرعلی علیہ السلام اس دنیا سے چلےگئے تو پھرمیرے بیٹے حسن بی علی علیہما السلام کے اختیارمیں ہوں گےاوراگروہ اس دنیا سے چل گئے تو میرے دوسرے بیٹے حسین بن علی علیہما السلام کے اختیارمیں ہوں گے اوران کے بعد میری اولاد میں سے سب سے بڑے بیٹے کے اختیارہوں گے۔ پھراس وصیت نامے پراللہ تعالیٰ کو گواہ قراردیتی ہیں اوراس کے بعد مقداد بن اسود کندی اورزبیربن عوام کو گواہ قراردیتی ہیں ۔ یہ وصیت نامہ امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کے توسط سے لکھا گیا تھا۔

حیطان سبعہ وہی سات باغات اورزرعی زمینیں ہیں کہ جن کےاطراف میں دیواربنائی گئی ہے اوران میں سے زیادہ تر(العوالی) اورمدینہ منورہ کےمشرقی علاقے میں واقع ہیں۔

1۔ العواف : بعض نے اسےالاعواف کا نام دیا ہے۔ یہ ایک وسیع مقام ہےکہ جو مدینہ شہرکے نزدیک واقع ہے اوروہاں پربھیڑیں اوراونٹ رکھے جاتے ہیں۔ مہزور ے چشمے سے اس وادی کی آبیاری کی جاتی ہے۔(8)

2۔ الصافیۃ:  یہ باغ مدینہ کے مشرقی حصے میں واقع ہے اوریہ زہیرہ نامی ٹکڑے کے نام سے معروف ہے۔(9)

3۔ الدلال: یہ زمین کا ایک ایسا ٹکڑا تھا کہ جو صافیہ سے پہلے مدینہ کے مشرقی حصے میں واقع تھا کہ جس کے بنی ثعلب یہود مالک تھے۔ یہ سرزمین، غنیمت کےعنوان سے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تصرف میں آگئی اورآپ نے اسےاپنی بیٹی فاطمہ کو عطا کردیا اورحضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے اسے اللہ کی راہ میں وقف کردیا۔(10)

4۔ برقہ: یہ باغ بھی مدینہ کے مشرق کی سمت واقع ہے اوراس سے قبل بنی قریضہ یہودی قبیلے کے اموال میں سے شمارہوتا تھا اورجب یہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اختیارمیں آیا اورسلمان نے اس میں درخت لگائے اوربعد میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے سپرد کردیا گیا اور آپ نے اسے بن ہاشم اوربنی المطلب کے لیے وقف کردیا تھا۔(11)

5۔ المثیب: اس کی جگہ مشخص نہیں ہے لیکن یہ بھی ایسے غنائم میں سے ہے کہ جو جنگ کے بغیر آنحضرت نے فتح کی تھی اوراسے بھی اپنی بیٹی کے سپرد کردیا تھا۔(12)

6۔ حسنی: یہ وہ مقام ہے کہ جو(الدلال) نامی سرزمین کے نزدیک واقع ہے اوریہ الحسینیات کے نام سے مشہورہے۔(13)

7۔  مشربہ ام ابراہیم : یہ باغ یہودی مدارس کے نزدیک واقع تھا اورچونکہ پیغمبراکرم کے بیٹے ابراہیم کی ولادت اس باغ میں ہوئی تھی لہذا یہ مشربہ ام ابراہیم کے نام مشہورہوگیا تھا۔(14)

کیا فدک موقوفات میں سے تھا یا نہیں؟

فدک کےبارے میں دو مطالب پرتوجہ حائزاہمیت ہیں: پہلا: فدک، مدینہ منورہ سے 140 کلومیٹرپر واقع ہے اوریاقوت حموی جیسے مورخین نے فدک اورمدینہ منورہ کے درمیان دو سے تین  کا فاصلہ قراردیا ہے اورفدک کو حیطان سبعہ میں سے قرارنہیں دیتے ہیں کیونکہ حیطان سبعہ سب کے سب مدینہ کے اطراف میں واقع تھے۔

کوئی بھی فدک کو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے صدقات اورموقوفات میں سےنہیں جاتا ہے بلکہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کےکلام کے مطابق فدک،ان کی ملکیت میں تھا اوربنی امیہ اوربنی عباس کے خلفاء بھی اسے آپ کا ورثہ قراردیتے تھے۔ اسی وجہ سے انہوں نے تاریخ میں سے فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اولاد کے سپردکردیا تھا۔

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اولاد کو فدک دیتے وقت مامون عباسی نے مدینہ کے گورنر(قثم بن جعفر) کو خطاب کرتے ہوئےلکھا: انه کان رسول الله(ص) اعطی ابنته فاطمة(س) فدک و تصدق علیها بها و ان ذلک کان امرا ظاهرا معروفا عند آله - علیه الصلاة و السلام - ثم لم تزل فاطمة تدعی منه بما هی اولی من صدق علیه. و انه قد رای ردها الی ورثتها و تسلیمها الی محمد بن یحیی بن الحسین زید بن علی بن الحسین بن علی ابی طالب [علیه السلام] و محمد بن عبدالله بن الحسین بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب - رضی الله عنهم - لیقوموا بها لاهلها. (15)

بتحقیق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی فاطمہ کو فدک بخش دیا تھا اوراہل بیت رسول کے نزدیک یہ مطلب واضح اورآشکار ہے اس کے بعد جب حضرت فاطمہ نے اس کا دعویٰ کیا تھا تو ان کی فرمائش مکمل طورپردرست اورقابل قبول ہے۔ بنابریں مصلحت اس میں ہے کہ یہ فدک حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے وارثوں کو لوٹایا جائے اوراسے علی بن الحسین علیہ السلام کے پوتوں محمد بن یحییِ اورمحمد بن عبداللہ کے حوالے کیا جائے تا کہ وہ اسےاس کے اہل تک پہنچا دیں۔

مآخذ:

1- التفسیر الکبیر، فخر رازی، ج 32، ص 124; مجمع البیان، ج 10، ص 549.

2- سفینة البحار، شیخ عباس قمی، ج 7، ص 45; بحارالانوار، ج 29، ص 123، ح 5.

3- معجم معالم الحجاز، عاتق بن غیث بلادی، ج 1، ص 21.

4- اعلام زرکلی، ج 4، ص 223.

5- معجم معالم الحجاز، ج 6، ص 194.

6- عمدة الاخبار فی مدینة المختار، احمد بن عبدالحمید عباسی، ص 241.

7- فروع کافی، ج 7، ص 48، ح 5; بحارالانوار، ج 43، ص 235،ح 1.

8- تاریخ المدینة المنوره، ج 1، ص 174.

9- بحارالانوار، ج 22، ص 299.

10- تاریخ المدینة المنوره، ج 1، ص 174; بحارالانوار، ج 22،ص 299.

11- بحارالانوار، ج 22، ص 300.

12- ایضا.

13- معجم معالم الحجاز، ج 8، ص 309.

14- وفاءالوفا، ج 4، ص 1291.

15- معجم معالم الحجاز، عاتق بن غیث البلادی، ج 7، ص 7 -26.

ماخذ : مجله فرهنگ کوثر، آبان ۷۶

690406

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز

سماجی: اسلامی جمہوریہ ایران کے شہر بندرعباس میں 8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز ہوچکا ہے جس میں دنیا بھر سے مسلمان دانشور، علماء، مفکرین اور عمائدین شرکت کررہے ہیں۔

منتخب خبریں