خبرگزاری شبستان

سه شنبه ۲۰ آذر ۱۳۹۷

الثلاثاء ٣ ربيع الثاني ١٤٤٠

Tuesday, December 11, 2018

وقت :   Monday, February 19, 2018 خبر کوڈ : 71563
حجۃ الاسلام حسن ملایی:
ظہورکی راہ ہموارکرنےکےلیےفاطمی جدوجہد کی ضرورت ہے
خبررساں ایجنسی شبستان: جب ہم حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو امام زمانہ علیہ السلام کے منتظرین کے لیے نمونہ عمل قراردینے کی بات کرتے ہیں تو اس سےمراد وہ کلی اورجامع اصول وقواعد ہیں کہ جو ان کی زندگی میں موجود تھے اورممکن ہے کہ زمانےاورحالات کے تقاضوں کےمطابق ان کے سانچوں میں تبدیلی آجائےلیکن اصول ہمیشہ ثابت رہتے ہیں۔

مہدویت تخصصی سنٹرکےگروہ اخلاق کےانچارج حجۃ الاسلام حسن ملایی نےخبررساں ایجنسی شبستان کےنامہ نگارسےگفتگو کےدوران منتظرین کےلیےحضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شخصیت اوران کی جہادی زندگی کےمختلف پہلووں کے بارے میں کہا ہےکہ اس بحث میں داخل ہونے کے لیے دو ابتدائی نکات عرض کرنا چاہتا ہوں۔ پہلا نکتہ یہ ہے کہ کیا کسی شہید کو نمونہ عمل قراردیا جاسکتا ہے؟ کیونکہ بعض اوقات یہ اعتراض کیا جاتا ہےکہ ان ہستیوں کا کردارانہیں کے زمانے سے مخصوص تھا۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ قرآن کریم نے خود اس سوال کا جواب دیتےہوئے فرمایا ہے: «لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ہردورکے ہرانسان کو آنحضرت کو نمونہ عمل قراردینے کی دعوت دی گئی ہے۔ کیا پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نمونہ عمل قراردینے کےلیےان کی ظاہری اورجسمانی حیات کی ضرورت ہے، یقینا ایسا نہیں ہے۔ ہمیں نمونہ عمل ہستیوں کو آئیڈیل قراردینے کے لیے ان کی زندگی کےاصول وقواعد پرتوجہ دینی چاہیے۔

حجۃ الاسلام ملایی نےکہا ہےکہ دوسرا مسئلہ یہ ہےکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے اپنےکلام میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو آئیڈیل اورنمونہ عمل قراردیا گیا ہے۔ فرماتےہیں: رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی میرے لیے بہترین نمونہ عمل ہے۔ جب امام زمانہ علیہ السلام اپنی معصوم مادرگرامی کو اپنے لیےآئیڈیل قراردے رہے ہیں تو ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ جہاد اکبرکے میدان میں بہت سی منتظرخواتین وحضرات حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو اپنا نمونہ عمل قراردے سکتے ہیں۔ اس جہاد اکبرمیں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی دعائیں، زیارات اورگریہ  کو شامل کیا جاسکتا ہے۔

حجۃ الاسلام ملایی نےکہا ہےکہ آپ کے جہاد کا ایک حصہ ،علمی جہاد ہے اوراس سلسلے میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی جانب سے دین اورامامت وولایت کے دفاع میں لوگوں کو آگاہ کرنا اورآپ کا خطبہ فدکیہ ہے۔اسی طرح بیت الاحزان میں گریہ اورآنسو بہانا بھی آپ کی ثقافتی جدوجہد کا حصہ ہے۔

مہدویت کےمحقق نےحضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے معاشی جہاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی جہاد میں بھی آپ کی جدوجہد کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طورپرسورہ مبارکہ انسان کا نزول اورتین دن کا روزہ رکھنا اوردوسروں کو اپنے اوراپنے اہل وعیال پرسبقت دینا ہے۔

685859

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز

سماجی: اسلامی جمہوریہ ایران کے شہر بندرعباس میں 8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز ہوچکا ہے جس میں دنیا بھر سے مسلمان دانشور، علماء، مفکرین اور عمائدین شرکت کررہے ہیں۔

منتخب خبریں