خبرگزاری شبستان

چهارشنبه ۳۰ خرداد ۱۳۹۷

الأربعاء ٧ شوّال ١٤٣٩

Wednesday, June 20, 2018

وقت :   Saturday, March 10, 2018 خبر کوڈ : 71770

امام زمانہ(عج) کے زندہ ہونے پرکونسی عقلی دلیلیں موجود ہیں؟
خبررساں ایجنسی شبستان: اہل سنت کے بہت سےنامورعلماء اوردانشوروں نے قبول کرتے ہوئے اپنی کتابوں میں لکھا ہےکہ امام مہدی علیہ السلام ،ا مام حسن عسکری علیہ السلام کے بیٹے ہیں اور255 ہجری قمری کو سامراء میں پیدا ہوئے تھے اوراب وہ پردہ غیبت میں موجود ہیں اورایک دن اللہ کے حکم سےظہورکریں گے۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کے مطابق امام زمانہ علیہ السلام  کا وجود مبارک اورآپ کی امامت کا مسئلہ ، امامت خاصہ کی بحثوں میں سے ہے کہ جس کےاثبات کے لیے براہ راست عقلی دلیل سےاستفادہ نہیں کیا جاسکتا ہے بلکہ امامت عامہ اور ہردورمیں امام کے وجود کی ضرورت  پرعقلی دلیل سےاستفادہ کرکے اپنے مقصد تک پہنچا جاسکتا ہے۔

امامت عامہ میں متعدد عقلی دلیلوں سےاستفادہ کرتے ہوئے ہردورمیں حجت الہی اورمعصوم انسان مثال کے طورپرنبوت اورامامت کو اللہ کی جانب سے ایک معنوی فیض قراردیا جاسکتا ہے اورقاعدہ لطف کے تحت اس طرح کا لطف ہمیشہ ہونا چاہیے۔

امام زمانہ علیہ السلام کی امامت اورآپ کا وجود مبارک بھی امام خاصہ کی بحثوں میں سے ہے اورامامت خاصہ میں براہ راست عقلی دلیل سےاستفادہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ (1) بلکہ عقلی دلیل، امامت عامہ اورہردورمیں امام کے وجود کی ضرورت کو ثابت کرتی ہے۔

امامت عامہ میں معصوم انسان اورزمین پرحجت الہی کے وجود کی ضرورت پرعقلی دلیل قائم ہوتی ہے۔ اب اگرہم حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت اورحیات پر دلالت کرنے والی روایات کو دلیل کے پہلےمقدمہ کےساتھ ملائیں تو ثابت ہوتا ہے کہ اس زمانے میں فقط حضرت حجت علیہ السلام ہی واسطہ فیض الہی ہیں اورزندہ بھی ہیں۔(2)

استدلال کے دوارکان کا جائزہ:

1۔ ہردورمیں امام کے وجود کی ضرورت پرعقلی دلیل:

الف: دلیل لطف:

نبوت اورامامت، اللہ کی جانب سےایک معنوی فیض ہےکہ قانون لطف کےمطابق جسےہمیشہ موجود ہونا چاہیے۔ قانون لطف کا تقاضا ہےکہ اسلامی معاشرے کے درمیان ایک امام ہونا چاہیے کہ جو حق کا محورہو اورمعاشرے کو مطلق خطاوں اورغلطیوں سے منع کرے۔

امام صادق علیہ السلام کا یہ جملہ کہ بتحقیق اللہ تعالیٰ عزوجل اس سے کہیں عظیم ترین اوربالاتر ہے کہ وہ زمین کو امام کے بغیرچھوڑ دے(3)، ممکن ہےکہ اسی دلیل کی طرف اشارہ ہو۔

امام غائب کے وجود کےالطاف کو مندرجہ ذیل امورمیں شمارکیا جاسکتا ہے:

1۔ کلی طورپراللہ کے دین کی حفاظت۔(4)

2۔ باصلاحیت افراد کی تربیت

3۔ مذہب کی بقاء

4۔ زندہ نمونہ عمل کا وجود کہ جو لوگوں کا امام اوررہبربن سکتا ہے۔

ب: دلیل علت غائی:

علم کلام میں ثابت ہےکہ اللہ تعالیٰ اپنے افعال میں ہدف اورغرض رکھتا ہے اورچونکہ اللہ تعالیٰ کمال مطلق ہے اوراس میں کوئی نقص اورعیب نہیں ہے اورالہی افعال کی غایت بھی مخلوقات کی طرف پلٹتی ہے اورانسان کامل، انسان کے وجود کی غایت ہے یعنی انسان اس درخت کی مانند ہےکہ جس کا پھل، انسان کامل ہے۔

ج: دلیل امکان اشرف:

فلسفہ میں ایک قانون موجود ہےکہ جسے قاعدہ امکان اشرف سے تعبیرکیا جاتا ہے اوراس کا مطلب یہ ہے کہ اشرف ممکن کو اپنے وجودی مراتب میں پست ممکن الوجود سےمقدم ہونا چاہیے۔(5)

تمام مخلوقات میں انسان اشرف المخلوقات ہے اوریہ چیزمحال ہےکہ ایک کامل انسان کہ جو زمین پرحجت الہی ہے، کو وجود، حیات، علم، قدرت اورجمال پہنچنےسے پہلےعام افراد کو یہ کمالات مل جائیں۔

د۔ دلیل مظہرجامع:

مقام ظہورمیں اللہ کی حقیقت اورہویت مطلقہ  پروحد ت کا غلبہ ہے اوروحدت ذاتی میں اسمائے تفصیلی کا کوئی مقام نہیں ہےاوردوسری جانب عالم خارج میں تفصیلی مظاہرپر کثرت کےاحکام، وحدت پرغلبہ رکھتے ہیں۔ یہاں پراللہ تعالیٰ کا فرمان ایک ایسی اعتدالی صورت کا تقاضا کرتا ہے کہ جس میں وحدت ذاتی یا کثرت امکانی ایک دوسرے پرغلبہ نہ رکھتے ہوں تاکہ اسمائے تفصیلیہ اوروحدت حقیقیہ کی جہت سے حق کے لیے مظہربن سکے اوروہ صورت اعتدال وہی انسان کامل ہے۔(6)

مآخذ :

[1] چونکہ دلیل عقلی کسی فرد کی پہچان کا سبب نہیں بن سکتی ہے اوراس جملے ( جزئی نہ کاسب ہے اورنہ مکتسب) کا بھی یہی معنی ہے۔

 [2] نک: نهج الولایة ، آیت الله حسن زاده ی آملی، صص8و 7.

[3] بصائر الدرجات ص 485، باب 10، ح3.

[4] کشف القناع، شریف العلماء، ص148.

[5] نهایة الحکمة، صص319و 320.

[6] نک: تمهید القواعد ص 172، تحریر تمهید القواعد، آیت الله جوادی، صص 548- 555.

693995

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

ڈاکٹر حسن روحانی:

قطر سے تعلقات کے فروغ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے

سیاسی: اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے ایران اور قطر کے تعلقات میں بہتری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا قطر سے بہتر تعلقات میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے کیونکہ قطر ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور ہم ہمیشہ قطر کے ساتھ کھڑے ہیں۔

منتخب خبریں