خبرگزاری شبستان

چهارشنبه ۳۰ خرداد ۱۳۹۷

الأربعاء ٧ شوّال ١٤٣٩

Wednesday, June 20, 2018

وقت :   Sunday, March 11, 2018 خبر کوڈ : 71785

قرآن کریم کی نظرمیں خوشی کا مقام
خبررساں ایجنسی شبستان: قرآن کریم میں خوشی کا ایک مخصوص مقام ہے اورمختلف صورتوں میں اس کی تائید کی گئی ہے تاہم بیہودہ اورعبث خوشیوں کی بجائےالہی اورانسانی اہداف پرمشتمل خوشیوں کی تائید کی گئی ہے۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق قرآن کریم میں خوشی کا ایک مخصوص مقام ہے اور مختلف صورتوں میں اس کی تائید کی گئی ہے تاہم بیہودہ اورعبث خوشیوں کی بجائے الہی اورانسانی اہداف پرمشتمل خوشیوں کی تائید کی گئی ہے۔ لہذا خوشیوں کے بارے میں دو قسم کی آیات موجود ہیں: ایک قسم کی آیات مومنین کو خوشی کی دعوت دیتی ہیں؛ جیسے یہ آیہ مجیدہ: ("قل بفضل الله و برحمته فبذلک فلیفرحوا هو خیر مما یجمعون ) اے رسول ، کہہ دیجیےکہ تم فقط اللہ تعالیٰ کے فضل اوراس کی رحمت پرخوش ہوں(نزول قرآن پرمسرورہوں) کہ یہ چیزاس مال ودولت سے کہیں زیادہ بہتر اورمفید ہےکہ جو تم نے اپنےلیے جمع کررکھا ہے۔ بنابریں لوگوں کو اللہ تعالیٰ کےفضل وکرم ،اس کی بےانتہاء رحمت اوراللہ کی اس عظیم کتاب پرخوش ہونا چاہیے کہ جو تمام نعمتوں پرمشتمل ہے۔ بنابریں انہیں مال ودولت کو جمع کرنے اورقوم وقبیلے کی بزرگی پرخوش نہیں ہونا چاہیے۔

اسی طرح قرآن کریم کی کچھ دیگرایات میں جب رومیوں کے اہل کتاب کی اہل مجوس کے مشرکین پرکامیابی اورنصرت پرمبنی الہی وعدہ متحقق ہوا تو  فرماتا ہے:(۔ ۔ ۔  و یومئذ یفرح المؤمنون بنصرالله... )  جس دن اہل روم فاتح ہوئےتواللہ کی مدد سے مومنین خوش ہوتے ہیں۔ بنابریں قرآنی تعلیمات کے مطابق مشرکین پرموحدین کی فتح خوشی کا باعث ہے۔

امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: (ان هذه القلوب تمل کما تمل الأبدان فابتغوا لها طرائف الحکمة ) جسموں کی طرح یہ دل بھی افسردہ اورتھک جاتے ہیں اورانہیں بھی استراحت کی ضرورت ہے لہذا ان کے لیے بھی خوبصورت اورمسرورکن نکات کا انتخاب کریں۔ ایک اورروایت میں فرماتے ہیں: (للمؤمن ثلاث ساعات : فساعة یناجی فیها ربه و ساعة یرم معاشه و ساعة یخلی بین نفسه و بین لذتها فیما یحل و یجمل ) مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ دن اوررات کو تین حصوں میں تقسیم کرے: ایک حصے کو اللہ کے ساتھ راز ونیاز کے لیے، ایک حصے کو اپنی زندگی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اورایک حصے کو حلال لذتوں کے حصول کے لیے۔

امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: اپنےاوقات کو چارحصوں میں تقسیم کریں: ایک حصے کو عبادت کے لیے، ایک حصے کو زندگی کےاخراجات کو پورا کرنے کے لیے، ایک حصےکو اپنے قابل اعتماد دوستوں اوربھائیوں کے ساتھ معاشرت کے لیےکہ جو تمہیں تمہارے عیوب سےآگاہ کریں اورایک حصےکو تفریح اورحلال لذت کےحصول کے لیےمختص کرو اورخوشی اورتفریحات کی گھڑیوں سے اپنے دیگرفرائض کی انجام دہی کے لیےطاقت حاصل کرو۔

خوشی اورمسرت انسانی کی روحانی مسرت اورانبساط کا بھی سبب بنتی ہے۔ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: "السرور، یبسط النفس و یثیر النشاط ) خوشی اورشادمانی روح کی خوشی اورانبساط کا سبب بنتی ہے۔

قرآن کریم میں خوشی کا ایک مخصوص مقام ہےاورمختلف صورتوں میں اس کی تائید کی گئی ہے تاہم بیہودہ اورعبث خوشیوں کی بجائے الہی اورانسانی اہداف پرمشتمل خوشیوں کی تائید کی گئی ہے۔ لہذا خوشیوں کےبارے میں دو قسم کی آیات موجود ہیں: ایک قسم کی آیات مومنین کو خوشی کی دعوت دیتی ہیں؛ جیسے یہ آیہ مجیدہ: ("قل بفضل الله و برحمته فبذلک فلیفرحوا هو خیر مما یجمعون ) اے رسول ، کہہ دیجیے کہ تم فقط اللہ تعالیٰ کے فضل اوراس کی رحمت پرخوش ہوں(نزول قرآن پرمسرورہوں) کہ یہ چیزاس مال ودولت سے کہیں زیادہ بہتر اورمفید ہے کہ جو تم نے اپنے لیے جمع کررکھا ہے۔ بنابریں لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم،اس کے بے انتہاء رحمت اوراللہ کی اس عظیم کتاب پرخوش ہونا چاہیے کہ جو تمام نعمتوں پرمشتمل ہے۔ بنابریں انہیں مال ودولت کو جمع کرنے اورقوم وقبیلے کی بزرگی پرخوش نہیں ہونا چاہیے۔

اسی طرح قرآن کریم کی کچھ دیگرایات میں جب رومیوں کے اہل کتاب کی اہل مجوس کے مشرکین پرکامیابی اورنصرت پرمبنی الہی وعدہ متحقق ہوا تو  فرماتا ہے:(۔ ۔ ۔ و یومئذ یفرح المؤمنون بنصرالله... ) جس دن اہل روم فاتح ہوئےتواللہ کی مدد سے مومنین خوش ہوتے ہیں۔ بنابریں قرآنی تعلیمات کے مطابق مشرکین پرموحدین کی فتح خوشی کا باعث ہے۔

دوسری قسم کی آیات خوشی کی مذمت کرتی ہیں کہ جن سے مراد بیہودہ اورعبث خوشیاں ہیں کہ جو اقدارکے خلاف ہیں۔ جس کا ایک نمونہ قارون کا ہےکہ جو ایک مغرورشخص تھا اور وہ مستانہ خوشیاں رکھتا تھا۔  قرآن فرماتا ہے: "اذ قال له قومه لا تفرح ان الله لا یحب الفرحین) اس وقت کو یاد کرو کہ جب قارون کی قوم نے اس سے کہا: اتنی غرورپرمبنی خوشیاں نہ مناو کہ اللہ تعالیٰ مغرور خوشیاں منانے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے۔ دوسرا نمونہ یہ ہےکہ قرآن کریم اہل جہنم کےعذاب کو بیان کرتےہوئے فرماتا ہے: "ذلکم بما کنتم تفرحون فی الأرض بغیر الحق و بما کنتم تمرحون) یہ سب اس وجہ سے ہے کہ تم نے زمین پرناحق خوشیاں منائی ہیں اورغروراورمستی کی حالت میں خوشیاں مناتے رہے ہو۔

693352

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

ڈاکٹر حسن روحانی:

قطر سے تعلقات کے فروغ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے

سیاسی: اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے ایران اور قطر کے تعلقات میں بہتری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا قطر سے بہتر تعلقات میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے کیونکہ قطر ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور ہم ہمیشہ قطر کے ساتھ کھڑے ہیں۔

منتخب خبریں