خبرگزاری شبستان

پنج شنبه ۲۸ شهریور ۱۳۹۸

الخميس ٢٠ المحرّم ١٤٤١

Thursday, September 19, 2019

وقت :   Wednesday, March 14, 2018 خبر کوڈ : 71827

قرآن کریم کی نظرمیں مہدوی حکومت
خبررساں ایجنسی شبستان: مستقبل سےمایوسی کی وجہ سےہی نفسیاتی اورروحانی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ جبکہ مہدوی حکومت کےتحقق اورمظلوموں کے زمین پروارث بننےکےقرآنی وعدہ سے انسان کے دل میں بہت بڑی امید پیدا ہوجاتی ہے۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق قرآن کریم میں امامت وولایت کے مقام کی وضاحت اورمہدوی کریمہ حکومت کے قیام کی راہ میں جہادی اورایمانی جذبہ اورامید رکھنے کےمقام کا تجزیہ وتحلیل ایسے موضوعات میں سے ہیں کہ جن کی وجہ سےمہدویت کےمحقق حجۃ الاسلام والمسلمین مصطفی پرہیزکارسےگفتگوکی گئی ہےکہ جس کا خلاصہ قارئین کے پیش خدمت ہے۔

اللہ تعالیٰ نےقرآن کریم میں زمین پرانسان کی الہی خلافت کےمقام کی وضاحت فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنِّي جاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَليفَةً)۔ یہ آیہ شریفہ ایک واضح بیان کے ساتھ زمین پرانسان کی خلافت الہیہ کےمقام کی وضاحت کرتی ہے۔ درحقیقت جو شخص بھی حجت اورعصمت کےمقام پر واقع ہے وہ اس آیہ شریفہ کے زمرے میں واقع ہوگا۔

اس مطلب پرتوجہ دینی چاہیےکہ انبیاء علیہم السلام اورائمہ معصومین علیہم السلام کی ایک اہم ترین صفت یہ ہے کہ آپ اللہ کی جانب سے منصوب ہیں اوریہ بلند مقام ان ہستیوں کے عظیم مقام کو مشخص کرتا ہے۔ قرآن کریم میں آیا ہے:«أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ)۔ اولی الامر کے ساتھ کسی قسم کی قید اوروضاحت کہ نہ ہونا اس بات کی دلیل ہےکہ اللہ کی پیروی کے راستے میں اولی الامرکا شماربھی ان انبیاء میں سے ہوتا ہےکہ جو ہرقسم کے گناہوں سے پاک اورمنزہ ہیں اوردوسرا یہ کہ یہ افراد اللہ کی جانب سےاس مقام پرمنصوب ہوئے ہوں۔

انبیاء کی ایک اورایک خصوصیت کہ جو ان کےجانشینوں میں بھی ہونی چاہیے وہ ان کا علم لدنی کا مالک ہونا ہے۔ ہم ائمہ معصومین علیہم السلام کے اس مقام کی وضاحت کریں کہ جوانسانوں کی ہدایت کے لیے آئے ہیں اورجو نظریہ انبیائے الہی کے بارے میں رکھتے ہیں وہی نظریہ ان کے جانشینوں یعنی ائمہ کے بارے میں بھی رکھنا چاہیے۔

ان کےعلاوہ قرآن کریم نےانبیاء اورائمہ کے لیےمقام شفاعت کو بیان کیا ہےکہ جسے اللہ تعالی نے انہیں عطا کیا ہے۔ جیسا کہ قرآن فرماتا ہے:«وَمَا نُرسِلُ المُرسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَ مُنـذِرِينَ» و یا «يا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنّا أَرْسَلْناكَ شاهِدًا وَ مُبَشِّرًا وَ نَذيرًا وَ داعِيًا إِلَى اللّهِ بِإِذْنِهِ وَ سِراجًا مُنيرًا».

قرآن کریم نےآخرالزمان میں حضرت ولی عصرعجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی امامت اورہدایت کے مقام کے بھی وضاحت کی ہےکہ جو ایک زیباترین بیان ہے۔ سورہ مبارکہ قصص کی پانچویں آیہ مجیدہ میں آیا ہے:«وَ نُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَ نَجْعَلَهُمُ الْوارِثِينَ» تفاسیرکی معتبرکتابوں میں اس آیہ شریفہ کی تفسیر میں آیا ہےکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیہ مجیدہ میں انتہائی واضح طوپرحضرت ولی عصرعجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی حاکمیت اوران کے مقام ومنزلت کی وضاحت فرمائی ہے۔

یہ اللہ کا ارادہ ہےکہ وہ مظلوموں  اورمحروموں کو امت کا ہادی اورپیشوا قراردے اوراس راہ میں ولی اللہ الاعظم علیہ السلام سے بڑھ کرکون ہوسکتا ہے۔ اگرکوئی شخص یا گروہ قرآن کریم کے اس واضح بیان کی حقانیت میں شک وشبہ ایجاد کرے تو ہم سب کو اس نکتےکو سمجھنا چاہیے کہ مظلومین اورامت کے ہادیوں سےکونسےافراد مراد ہیں؟ یہ آیہ شریفہ کس شخص اورکونسے اشخاص پردلالت کرتی ہے۔

قرآن کریم فرماتا ہےکہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ حضرت ولی عصرعجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ہی اس زمین پرانبیاء کے وارث ہیں کہ جو اللہ کے حکم سے ایک دن ظہورکریں گے اورزمین کے مظلوموں اورمحروموں کو سعادت اورسلامتی کی جانب لے کرجائیں گے۔

695799

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز

سماجی: اسلامی جمہوریہ ایران کے شہر بندرعباس میں 8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز ہوچکا ہے جس میں دنیا بھر سے مسلمان دانشور، علماء، مفکرین اور عمائدین شرکت کررہے ہیں۔

منتخب خبریں