خبرگزاری شبستان

جمعه ۲۹ تیر ۱۳۹۷

الجمعة ٨ ذو القعدة ١٤٣٩

Friday, July 20, 2018

وقت :   Thursday, April 12, 2018 خبر کوڈ : 72028

شیعوں کی مالی خودکفائی اوراستقلال کےلیےامام کاظم(ع) کی حکمت عملی
خبررساں ایجنسی شبستان: امام کاظم علیہ السلام پیداوارپربہت زیادہ توجہ دیتےتھے۔ لہذا ہمارے معاشرے میں بھی اس مطلب پرتوجہ دینی چاہیےاورتقسیم کےعمل بھی اصلاح ہونی چاہیے تاکہ مصرف کرنے والے تک پہنچ سکے؛ امام کاظم علیہ السلام ذخائرکی تقسیم میں بہت زیادہ دقت کیا کرتے تھے اوریہی چیز شیعہ کی معاشی مضبوطی کا سبب بنی تھی۔

کتاب(شرح زندگانی امام کاظم(س)) کے مولف حجۃ الاسلام والمسلمین رمضان محمدی نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے خبررساں ایجنسی شبستان کے نامہ نگارسے گفتگو کے دوران شیعوں اورمسلمانوں کے فنانشل استقلال اورخودکفائی کےلیےامام علیہ السلام کی معاشی تدابیرکی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ اہل بیت علیہم السلام دنیاوی معیشت پرتوجہ دیا کرتھے اورانہوں نے اس بارے میں بہت زیادہ نظریات پیش کیے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ ائمہ اطہارعلیہم السلام کے معاشی افکارکی بنیاد توحیدی تصورکائنات پرمشتمل تھے۔ امام کاظم علیہ السلام بھی متعدد معاشی نظریات رکھتے تھے کہ جو ہمارے اسلامی معاشرے کے لیے نمونہ عمل بن سکتے ہیں۔

حوزہ ویونیورسٹی کےاستاد نےکہا ہےکہ امام کاظم علیہ السلام اسلامی معاشرے اورمسلمانوں کی فنانشل خودکفائی اوراستقلال کے لیے امام کاظم علیہ السلام کی ایک معاشی تدبیرکام اورمحنت تھی۔ روایت میں ہے کہ امام کاظم علیہ السلام نے جب ایک صحابی کو کام پردیرسے آتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: کام، انسان کی عزت ہے اورانسان کو بے کارنہیں رہنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ روایات کی بنا پرامیرالمومنین امام علی علیہ السلام، امام باقرعلیہ السلام،امام صادق علیہ السلام اورامام کاظم علیہ السلام کے گھروں میں بیلچے تھےکہ جو ان کی محنت اورکام کی علامت تھی۔ اہل بیت علیہم السلام کی سیرت میں کام کرنے کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔

انہوں نے سادہ زندگی بسرکرنے اورعیش وعشرت کی زندگی سےدوری کو امام کاطم علیہ السلام کی  ایک اورمعاشی تدبیر قراردیتے ہوئےکہا ہےکہ امام کاظم علیہ السلام نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا کہ میرے لیے گندم اورجو سےایک روٹی بناو اورفرمایا کہ میں گندم کی روٹی کھا سکتا ہوں لیکن مجھے پسند نہیں ہے۔

محمدی نے کہا ہےکہ امام کاظم علیہ السلام نے فرمایا: قناعت کے ہمراہ میانہ روی،نعمت کی بقاء اورپائیدارکا سبب ہے۔آپ کے دورمیں بہت زیادہ معاشی رونق تھی ۔ اہل بیت علیہم السلام کے فنانشل ذرائع فقط خمس وزکواۃ میں منحصرنہیں تھے بلکہ قرآنی آیات اورروایات کی بنا پران کے خاص قسم کا مصرف تھا لہذا امام کاظم علیہ السلام اپنی آمدن اورمحنت ومزدوری سےکمائے ہوئےمال سے فقرا کو عطا کیا کرتے تھے۔ روایت میں امام علیہ السلام نے ایک شخص کو ایک نفیس اورگرانبہا کپڑا بھیج کرفرمایا : یہ ہماری اپنی مصنوعات میں سے ہے۔ ایک مرتبہ آپ ایک مومن کے لیے تمام وسائل پرمشتمل ایک گھرخریدتے ہیں اوراسی بہت زیادہ امداد کی وجہ سے ہی امام کاظم علیہ السلام باب الحوائج کےنام سےمشہورہوگئے تھے۔

699181

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

آیت اللہ خاتمی:

اس وقت تہران میں چادرشعائراللہ کی تعظیم کا مصداق ہے

خبررساں ایجنسی شبستان: آیت اللہ خاتمی نےشیعوں کی خصوصی مناسبتوں کےبارے میں کہا ہے کہ اتنی زیادہ عزت وقدردانی کا راز یہ ہےکہ اہل بیت علیہم السلام کہیں فراموش نہ ہوجائیں، درحقیقت ہمارے ائمہ ہمارے لیے نمونہ عمل ہیں لہذا ان پرتوجہ دینی چاہیے۔

منتخب خبریں