خبرگزاری شبستان

سه شنبه ۲۶ تیر ۱۳۹۷

الثلاثاء ٥ ذو القعدة ١٤٣٩

Tuesday, July 17, 2018

وقت :   Monday, April 16, 2018 خبر کوڈ : 72048

حیات طیبہ پرفائز ہونے کی شرط
خبررساں ایجنسی شبستان: یہ عقل وادراک کی طاقت ہےکہ جو انسان کو خلیفہ الہی کےمقام ومنزلت کی طرف لےکرجاتی ہے۔ عالم ناسوت میں عقل اورشعورکے ذریعےامورظاہرہوں گے اورعقل وادراک سےعدم استفادہ یقینا آدمی کو ذلت کی وادی میں لےکرجاتا ہے۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق معارف وعلوم قرآن کریم یونیورسٹی کےعلمی بورڈ کے رکن حجۃ الاسلام ڈاکٹرمحمدا کبری نے قرآن کریم کی نظرمیں حیات طیبہ کی خصوصیات کی وضاحت کرتے ہوئےکہا ہےکہ حیات طیبہ کا ایک پہلو، عبادی اوروحی پرمبنی حیات ہے۔ انسان فطری طورپریہ رجحان رکھتا ہےکہ وہ ولی نعمت اورمنجی عالم بشریت کے سامنے خضوع وخشوع کرے۔ اللہ کی عبودیت اوربندگی وہی ایک اہم معیار ہےکہ تمام الہی انبیاء اوراولیاء اس کے وسیلے سے قرب الہی کی منزل پرفائز ہوتے ہیں۔ قرآن کریم فرماتا ہے:«لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذابِي لَشَدِيدٌ»۔

حیات طیبہ کا دوسرا پہلو،عقلانی حیات ہے۔ ایک صحیح تعبیر کےمطابق انسان کا دیگرمخلوقات سے فرق بھی اسی چیزمیں پوشیدہ ہے۔ یہ عقل اورادراک کی قوت ہےکہ جو انسان کو خلیفہ الہی کے مقام ومنزلت کی جانب لے کرجاتی ہے۔ روایات میں آیا ہےکہ آدمی کی حیات کا بلند ترین مرتبہ، عقلانی حیات ہے اوراگر انسان اس مفہوم کو سمجھ لے تو یقینا وہ اپنے آپ اورانسانی معاشرے کو بھی ہرقسم کی برائی سے نجات دےگا۔ امیرالمومنین امام علی علیہ السلام نےعقل کے بارے میں فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کوعقل عطا کی ہے لیکن شہوت اورغضب عطا نہیں کیا ہے،حیوانات کو شہوت اور غضب عطا کیا ہے لیکن قوہ عقل عطا نہیں کی ہےاورمخلوقات میں ٖفقط انسان ہی ہےکہ جوعقل اور شہوت اورغضب رکھتا ہے۔ بنابریں اگرانسان عقل سے استفادہ کرلے تو وہ غضب اورشہوت کی طاقتوں پرغلبہ پالے گا تو وہ بے شک خلافت الہی کے مقام پرفائز ہوجائے گا۔

امیرالمومنین علیہ السلام کی تعبیرکے مطابق عالم ناسوت میں آدمی کی ایک اہم ترین مشکل، جہالت اورنادانی ہے اوراسی جہالت اورنادانی کی وجہ سے ہی وہ شیاطین کے وسوسوں کا اسیرہوجاتا ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے:(الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَياةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا) موت کو حیات پرمقدم کرنا اس بات کی علامت ہے کہ موت اوردوبارہ اٹھایا جانا،اس کی ابتدائی خلقت سے بھی عظیم ترہوگا۔       بے شک انسان اس وقت اپنی جاوید حیات اورخلقت کو سمجھ لے گا کہ جب اسے معلوم ہوجائے کہ وہ اس راہ میں بہترین عمل انجام دینے کے لیےخلق ہوا ہے اورموت وحیات فقط نیک اعمال کے حصول کے لیے ہے۔

699661

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

حضورقلب کے مقابلےمیں قوہ خیال کی بیہودگی

خبررساں ایجنسی شبستان: حواس باختہ ہونے کا اصلی اوربنیادی سبب قوہ خیال کی بیہودگی اوراس کا فرارکرنا ہے۔ انسان ایک ایسی قوت کا مالک ہے کہ جو ہمیشہ اس کے ذہن اورخیال کو استعمال کرتی ہے۔

منتخب خبریں