خبرگزاری شبستان

یکشنبه ۶ خرداد ۱۳۹۷

الأحد ١٣ رمضان ١٤٣٩

Sunday, May 27, 2018

وقت :   Saturday, May 12, 2018 خبر کوڈ : 72229

ظہورکا مطلب امام زمانہ(عج) کا آنا ہےیا انہیں لانا ہے؟
خبررساں ایجنسی شبستان:حضرت امام مہدی علیہ السلام آنےوالے بھی ہیں اورلانے والے بھی ہیں یعنی لوگ اپنی ذمہ داریوں پرعمل کریں اوران کے ظہورکےلیےآمادہ ہوں اوران کے قیام کےلیے راہ ہموارکریں۔اسی طرح ایسی راہ ہموارکریں کہ دنیا کے لوگ ظہورکے لیے ایک قسم کی ذہنی آمادگی اورقلبی درخواست کریں۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کے مطابق اسلامک سائنسز اینڈ کلچرل انسٹی ٹیوٹ کے علمی بورڈ کےرکن حجۃ الاسلام والمسلمین رحیم کارگرنےاپنی کتاب( مہدویت اور دوران ظہور) میں لکھا ہے:

قرآنی آیات میں ایک اہم مسئلہ کہ جس کی کئی مرتبہ وضاحت کی جاچکی ہے، اس کائنات ، تاریخ اورمعاشرے پرحاکم قوانین کا مسئلہ ہے۔ بہت سی آیات کےمطابق انسانی تاریخ اورانسانوں کی تقدیرایک خاص نظام کےماتحت ہےاس طرح کہ ہرقسم کی تبدیلی کچھ مشخص اورمعین قوانین کےتابع ہےکہ جو دنیا کی تدبیرکےلیےاللہ کی جانب سے مشخص ہیں ۔ قرآنی تعبیرات میں انہیں( الہی سنتوں) کےعنوان سے یاد کیا گیا ہے۔

شاید ان سنتوں میں سے ایک سنت کو( اپنی کوشش اورمحنت کےمطابق ثواب ملنےکی سنت کا نام دیا جاسکتا ہے۔ اس سنت کےمطابق الہی نعمتوں سےاستفادہ کرنا انسان کی کوشش اورمحنت سےمربوط ہے اوریہ انسان ہی ہےکہ جو اپنےاختیار اورعمل کے ذریعے اپنےآپ اورمعاشرے کو آگے لےکرجاسکتا ہے اورتاریخ کو تکامل کی منزل پر فائزکرسکتا ہےیا سستی اورمحنت نہ کرنےکی وجہ سے الہی نعمتوں کو ضائع کردیتا ہے اورپھرزوال کی طرف جانے لگتا ہے۔

قرآن کریم اس سنت کےبارے میں فرماتا ہے: «وَ أَنْ لَيْسَ لِلاْءِنْسانِ إِلاّ ما سَعى وَ أَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرى»[1] بنابریں الہی نعمتوں کی عطا انسان کی کوشش اورمحنت کی کیفیت سے وابستہ ہے۔ البتہ اس چیزکومدنظررکھنا چاہیےکہ اس سنت کے ساتھ ساتھ اللہ کی غیبی امداد اورتائید کہ جو ضروری مواقع پرپاکیزہ اورمصلح انسانوں کی مدد کے لیے آتی ہے، ختم  نہیں ہوتی ہےبلکہ جب بھی انسان ، الہی ذمہ داریوں کےمقابلے میں ایک حد تک اپنی ذمہ داریوں پرعمل کریں تو یہ سنت نافذ ہوجائے گی۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللّهَ يَنْصُرْكُمْ وَ يُثَبِّتْ أَقْدامَكُمْ»[2].[ 3] اس آیہ مجیدہ کی بنا پراس سنت کےفعلیت تک پہنچنےاورمومنین کی نصرت ان کی جانب سے کچھ فرائض کی انجام دہی کےساتھ مشروط ہے۔

اس مقدمہ کے پیش نظر واضح ہوجاتا ہےکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کےلیےآنا کی تعبیربھی استعمال ہوسکتی ہےاورلانا کی تعبیر بھی؛ یعنی لوگوں یا کم ازکم موحدین اور مومنین اپنی ذمہ داریوں پرعمل کریں اورآنحضرت کےظہورکےلیےآمادہ ہوں اورقیام کی راہ ہمواکریں۔

دوسری جانب اللہ تعالیٰ معاشرے کےحالات کے پیش نظراور دنیا کی ضرورت کے مطابق جب بھی ارادہ کرےگا قیام متحقق ہوجائےگا۔ اس اعتبارسےامام مہدی علیہ السلام کے لیے (آنا) کی تعبیراستعمال ہوسکتی ہے اورممکن ہےکہ ارادہ الہی کی بنا پراوربشرکی شدید ضرورت کے پیش نظر بعض حالات اورشرائط کا منتظرنہ رہے۔ لیکن جو چیز یہاں پر اہمیت رکھتی ہے وہ انسانوں کا ارادہ اوراختیار ہے۔ کیونکہ بعض امورانسانوں کے اختیار میں دیے گئے ہیں اوران سےمطالبہ کیا گیا ہےکہ وہ اس راہ پرگامزن رہیں اورہرگز سستی اورکاہلی کا مظاہرہ نہ کریں۔ درحقیقت تاریخ کے متعالی فلسفہ( دنیا کے مستقبل کے بارے میں دینی نقطہ نظر) کے مطابق بشرکا مستقبل جبری اورالزامی نہیں ہے بلکہ انسانوں کے ارادے سےمربوط ہے اورجب تک تمام لوگوں کا مطالبہ نہ ہو اس وقت تک ظہورکا احتمال بہت کم ہے۔

لیکن فلاسفہ اورمختلف نظریاتی فرقوں جیسے ہیگل، مارکس اورکانٹ وغیرہ کی نظرمیں تاریخ کا مستقبل جبری ہےاور تاریخ کے مقصد اورراستےکی تشکیل میں انسانوں کے پاس کوئی اختیارنہیں ہے۔(۴)

الہی سنتوں اوراصولوں کی بنا پربھی ہرمعاشرے کی تقدیراس معاشرے کےنقطہ نظراور ارادے سے وابستہ ہے۔ یعنی لوگوں کا اجتماعی ارادہ ، راستہ ہموارکرنےکا سبب بنتا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ بعض روایات میں راہ ہموارکرنے والوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہےکہ جو امام مہدی علیہ السلام کےظہورکا سبب بنیں گے:«يخرج ناس من المشرق فيوطئون للمهدى يعنى سلطانه» زمین کےمشرق سے لوگوں کا ایک گروہ نکلےگا جوامام مہدی علیہ السلام کی حکومت کی راہ ہموارکرے گا۔(۵)

مآخذ :

[1].نجم 53، آيه 40 - 39.

[2].محمد 47، آيه 7.

[3].فصلنامه انتظار، ش 7، ص 232.

 [4].ر.ك: نگارنده، آينده جهان، ص 45-34.

[5]. بحارالانوار، ج 51، ص 87 از رسول گرامى اسلام.

۷۰۴۶۸۴

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

خطیب مسجد فتح قاہرہ:

تمام آسمانی کتب ماہ مبارک رمضان میں نازل ہوئیں

سماجی: مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں مسجد فتح کے خطیب نے کہا تمام آسمانی کتب ماہ مبارک رمضان میں نازل ہوئی ہیں۔

منتخب خبریں