خبرگزاری شبستان

دوشنبه ۲۹ مرداد ۱۳۹۷

الاثنين ٩ ذو الحجّة ١٤٣٩

Monday, August 20, 2018

وقت :   Wednesday, May 16, 2018 خبر کوڈ : 72300

قرآن مجید میں امام زمانہ(عج) کےاصحاب کی خصوصیات
خبررساں ایجنسی شبستان: قرآن کریم کی آیات میں کچھ ایسی صفات بیان کی گئی ہیں کہ جنہیں حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے خاص اصحاب پرمنطبق کیا جاسکتا ہے اوربعض روایات میں بھی آیا ہےکہ یہ آیات امام مہدی علیہ السلام اوران کےاصحاب کے بارے میں ہیں۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق اسلامک سائنسز اینڈ کلچرل انسٹی ٹیوٹ کےعلمی بورڈ کے رکن حجۃ الاسلام والمسلمین رحیم کارگرنےاپنی کتاب(مہدویت ودوران ظہور)میں لکھا ہے کہ ایک سوال ہےکہ کیا امام زمانہ علیہ السلام کے اصحاب تاریخ کا نچوڑہیں اوراتنےصالح انسانوں اوراولیائےالہی میں ان کا انتخاب کس طرح ہوگا، یعنی ان کے اندرکونسی ایسی صفات پائی جاتی ہے کہ وہ اس عظیم مقام پرفائزہوں گے؟

ایک عظیم اورعالمی انقلاب کو لائق، تجربہ کار،طاقتوراورپاکیزہ راہنماوں اورقائدین کی ضرورت ہے تاکہ کامیابی بھی متحقق ہو اوراس کےعمومی اہداف اورپروگرامزبھی عملی جامہ پہنیں۔ زمانہ اور تاریخ مہدوی دانشگاہ میں انسانوں کے داخل ہونےکا دروازہ ہے اوریہ ایک ایسی دانشگاہ ہےکہ جس میں قومیت، مذہب، نسل اورکسی خاص وقت کی کوئی اہمیت نہیں ہےبلکہ یہ قومیت اورنسل سےبالاتر ہے۔ بنابریں مہدوی قیام اتنا وسیع اورعام ہے کہ جس کے دائرہ کارمیں تمام قومیں اورگروہ موجود ہوں گے اوریہاں تکہ فرشتے بھی اس میں اپنا کردارادا کریں گے۔

کیونکہ امام زمانہ علیہ السلام کےاصحاب میں( حضرت عیسی، یوشع، خضر، اصحاب کہف وغیرہ جیسے) انبیاء اوراولیائے الہی اوراسی طرح( سلمان، مالک اورابوذر وغیرہ جیسے) پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلام اورامیرالمومنین علیہ السلام کے اصحاب موجود ہوں گے، لہذا کہا جاسکتا ہے کہ وہ تاریخ کا نچوڑہوں گے۔

البتہ روایات میں امام زمانہ علیہ السلام کے ۳۱۳اصحاب پرخصوصی تاکید کی گئی ہےاوران کی جو صفات بیان کی گئی ہیں ان سےمعلوم ہوتا ہےکہ وہ حقیقت میں بہترین، شائستہ اورمنتخب انسان ہیں اوراس عظیم الہی مشن کو انجام دینےکی صلاحیت رکھتے ہیں۔

قرآن مجید میں اصحاب کی صفات

قرآن کریم کی آیات میں کچھ ایسی صفات بیان کی گئی ہیں کہ جنہیں حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے خاص اصحاب پرمنطبق کیا جاسکتا ہے اوربعض روایات میں بھی آیا ہےکہ یہ آیات امام مہدی علیہ السلام اوران کے اصحاب کے بارے میں ہیں۔

«يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَ يُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُومِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكافِرِينَ يُجاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَ لا يَخافُونَ لَوْمَةَ لائِمٍ ذلِكَ فَضْلُ اللّهِ يُؤتِيهِ مَنْ يَشاءُ وَ اللّهُ واسِعٌ عَلِيمٌ»[1]

اس آیہ مجیدہ کی بنا پراللہ تعالیٰ مستقبل میں دین کی حمایت کے لیے ایک گروہ کو اٹھائےگا اوراس عظیم ذمہ داری کو انجام دینے والوں کی صفات مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔  وہ اللہ کےعاشق ہیں اوراس کی رضا کےعلاوہ کچھ نہیں سوچتے ہیں۔ اللہ بھی ان سے محبت کرتا ہے اوروہ بھی اللہ سے محبت کرتے ہیں۔. «يُحِبُّهُمْ وَ يُحِبُّونَهُ»

۲۔ وہ مومنین کے سامنےخاضع ہیں۔«أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُومِنِينَ»

۳۔ ظالموں اورکافروں کے مقابلے میں طاقتورہیں۔ «أَعِزَّةٍ عَلَى الْكافِرِينَ»

۴۔ وہ ہمیشہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔«يُجاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ»

۵۔ وہ ثابت قدم ہیں اورسرزنش کرنے والوں کی پرواہ نہیں کرتے ہیں۔«وَ لا يَخافُونَ لَوْمَةَ لائِمٍ)

آخرمیں فرماتا ہےکہ یہ تمام امتیازات اورخصوصیات، ذاتی کوششوں کےعلاوہ، فضل الہی کےمرہون منت ہیں اور یہ اسے عطا کی جاتی ہیں کہ جو اس مقام کا اہل ہو ۔ «ذلِكَ فَضْلُ اللّهِ يُوتِيهِ مَنْ يَشاءُ وَ اللّهُ واسِعٌ عَلِيمٌ»

امام جعفرصادق علیہ السلام کی روایت میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے اصحاب کی صفات بیان کی گئی ہیں کہ جو آیہ مجیدہ میں مذکورصفات کےمطابق ہیں۔(۲)

کلی طورپرروایات میں ذکرہونے والی امام زمانہ علیہ السلام کےاصحاب کی خصوصیات اورصفات کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے۔

احادیث میں امام زمانہ علیہ السلام کے اصحاب کی خصوصیات:

۱۔ اللہ کی بہت زیادہ معرفت رکھنا۔

امام صادق علیہ السلام نےفرمایا: ان (امام مہدی(ع) کےاصحاب) کے دلوں میں اللہ کی ذات کے بارے میں کوئی شک وتردید نہیں ہے۔ (۳) وہ اللہ کی وحدانیت پراس طرح ایمان رکھتے ہیں کہ جس طرح ایمان رکھنےکا حق ہے۔ (۴)

۲۔ امام زمانہ علیہ السلام کی معرفت۔

 امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں: وہ ایسے افراد ہیں کہ جو امام مہدی علیہ السلام کی امامت پراعتقاد رکھتے ہیں۔ (۵)

۳۔ اخلاص۔

 امام جواد علیہ السلام نےفرمایا: جب امام مہدی علیہ السلام کے لیے ۳۱۳مخلص افراد جمع ہوجائیں گےتو اللہ تعالی ان کا ظہورکردے گا۔ (۶)

۴۔  اطاعت اورفرمانبرداری۔ 

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: کنیزکی اپنے مولا کی اطاعت سے زیادہ وہ اپنےامام کی اطاعت کریں گے۔ (۷)

۵۔ استقامت۔

امام علیہ السلام نےمزید فرمایا: (۔ ۔ ۔ گویا کہ ان کے دل لوہے کے ٹکڑوں کی طرح ہیں ۔ ۔ ۔ پتھرسے بھی زیادہ مضبوط ہیں۔ (۸)

۶۔ قربانی

 امام جعفرصادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہےکہ آپ نے فرمایا ہے کہ وہ پروانوں کی طرح امام کے وجود کے گرد جمع ہوں گے اوراپنی جانوں سےان کی حفاظت کریں گے۔ (يحفون به)(9)

۷۔ الہی تائید کا مالک ہونا۔

امام علی علیہ السلام نے فرمایا:(۔ ۔ ۔ اللہ تعالیٰ آخرالزمان میں ایک مرد(مہدی) کا ظہورکرے گا ۔ ۔ ۔ کہ فرشتوں کی ذریعے جس کی تائید کرے گا اوراس کے ساتھیوں کی حفاظت کرے گا۔ (۱۰)

۸۔ جذبہ شہادت۔ 

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: امام مہدی علیہ السلام کے ساتھی ، اللہ کی راہ میں شہادت کی آرزو کریں گے۔ (۱۱)

۹۔ صبروشکبیائی۔ 

امام علی علیہ السلام نےفرمایا: ( امام مہدی علیہ السلام کے ساتھی اللہ کی راہ میں صبروشکیبائی اختیارکرنےکی وجہ سے اس پراحسان نہیں جتلائیں گے اوراللہ کی راہ میں جان دینے کی وجہ سے اپنے اوپرفخراورغرورنہیں کریں گے۔ (۱۲)

۱۰۔ دن کے وقت شیراوررات کے وقت زاہد

 امام صادق علیہ السلام نےفرمایا:( گویا میں نجف اورکوفہ میں قائم اوران کےاصحاب کو دیکھ رہا ہوں کہ سجدوں کی وجہ سے ان کی پیشانیوں پرنشان پڑگئے ہوئے ہیں۔ وہ دن کے وقت شیراوررات کے وقت زاہد افرادہوں گے۔ (۱۳)

۱۱۔ ہمدلی ویکجہتی۔ 

امام علی علیہ السلام نے فرمایا: وہ ایک دل اورہم آہنگ ہوں گے۔ (۱۴)

۱۲۔ برکت کے خواہاں

 امام صادق علیہ السلام سےنقل ہوا ہےکہ وہ اپنے گھوڑوں کے اوپرسےامام علیہ السلام کی زین پرہاتھ پھیرتوسل اورتبرک کریں گے۔ (۱۵)

۱۳۔ اللہ کی عبادت

امام صادق علیہ السلام نےفرمایا: رات کی تاریکی میں وہ اللہ کےخوف سے اس طرح گریہ وزاری کریں گے کہ جس طرح جوان بیٹے کی ماں اس کی موت پرگریہ کرتی ہے اور راتوں کو صبح تک عبادت میں مشغول رہیں گے اوردنوں کو روزے رکھیں گے۔ (۱۶)

۱۴۔ شجاعت

 امام علی علیہ السلام نے فرمایا: وہ ایسے شیرہیں کہ جوکھچاروں سے باہرنکلے ہوئے ہیں اوراگروہ ارادہ کریں تو پہاڑوں کواپنی جگہ سے ہلا کررکھ دیں گے۔ (۱۷)

۱۵۔ علم اوربصیرت

امام علی علیہ السلام نے فرمایا: پس ان فتنوں میں کچھ لوگ چمک جائیں گےکہ جس طرح لوہارتلوار کو چمکاتا ہے۔ قرآن کے نورسے ان کی آنکھیں منورہوں گی اوران کے کانوں میں تفسیرقرآن کی آواز گونجتی ہوگی۔ صبح کے وقت حکمت کے جام پینے کے بعد رات کو پھرانہیں حکمت کےجام پلائے جائیں گے۔ (۱۸)

۱۶۔ حق کی مدد

امام صادق علیہ السلام نےفرمایا: اللہ تعالیٰ ان کے وسیلے سےامام حق کی نصرت کرے گا۔ (۱۹)

۱۷۔ نورانی حکمت

 امام صادق علیہ السلام سےنقل ہوا ہے کہ (گویا کہ ان کے دل نورانی مشعل کی طرح ہیں۔ ( کان قلوبھم القنادیل)(۲۰)

ان روایات کے پیش نظرواضح ہوجاتا ہےکہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کےاصحاب اتنی بے نظیراوربہترین صفات کےمالک ہوں گے لہذا وہ اس عالمی قیام کی کامیابی میں اہم کردارادا کریں گے۔

مآخذ :

[1]. مائده 5، آيه 54.

[2]. بحارالانوار، ج 52، ص 308.

[3]. ایضا، ص 317.

[4]. بشارة الاسلام، ص 220.

[5]. كمال الدين، ح 1، باب 31، ح 2.

[6]. ایضا، ح2، ص 378-377.

[7]. بحارالانوار، ج 52، ص 308.

[8]. ایضا، ص 307، ح 82.

[9]. ایضا، ص 308.

[10]. ایضا، ص 280،ح 6.

[11]. ایضا، ص 307، ح 82.

[12]. يوم الخلاص، ص 224.

[13]. بحارالانوار، ج 52، ص 386.

[14]. يوم الخلاص، ص 224.

[15]. بحارالانوار، ج 52، ص 308.

[16]. يوم الخلاص، ص 224.

[17]. ایضا.

[18]. بحارالانوار، ج 52، ص 334، ح 64.

[19]. ایضا، ص 308.

[20]. ایضا.

۷۰۴۶۸۶

 


 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

امام محمد باقرعلیہ السلام کی شب شہادت، ایران اسلامی سوگوار و عزادار

خبررساں ایجنسی شبستان فرزند رسول حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام کی شب شہادت کی مناسبت سے ایران کے سبھی چھوٹے بڑے شہروں کی مساجد اور امام بارگاہوں اور مقدس مقامات میں مجالس عزا کا انعقاد کیا گیا ہے جہاں علماء و ذاکرین خطاب کر رہے ہیں.

منتخب خبریں