خبرگزاری شبستان

دوشنبه ۴ تیر ۱۳۹۷

الاثنين ١٢ شوّال ١٤٣٩

Monday, June 25, 2018

وقت :   Wednesday, May 30, 2018 خبر کوڈ : 72486

سعودی وہابیت ، مغربی امپریالزم کی خدمت میں
خبررساں ایجنسی شبستان: وہابیت کے فروغ کےآغاز سے لےکر بہت سے ممالک یکے بعد دیگرے زوال کا شکارہوتے رہے ہیں اوررعب اوروحشت باعث بنی ہےکہ انڈونیشیا جیسا ملک ۱۹۶۵ کے بعد سے یا پھرمغرب کے حملے بعد عراق، مغرب کی مداخلت سے پہلےکے دورکی طرف پلٹ نہیں سکے ہیں۔

خبررساں ایجنسی شبستان نے« informationclearinghouse» کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ جب سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نے واشنگٹن پوسٹ سےگفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ درحقیقت مغرب نے پوری دنیا میں وہابیت کے فروغ کے لیےاس کے ملک کو ابھارا تھا تو اس وقت مغرب کے ذرائع ابلاغ کےعلاوہ مصراورانڈونیشیا جیسے ممالک کے ذرائع ابلاغ پربھی ایک  لمبی اورگہری خاموشی چھا گئی ہوئی ہے۔

جنہوں نےاس مطلب کو پڑھا وہ ریاض کی جانب سے ایک ٹھوس مذمت کےمنتظرتھے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہے اورسعودی شہزادے یا واشنگٹن پوسٹ کو کسی قسم کے ردعمل کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔

سعودی ولی عہد کے بقول درحقیقت یہ مغرب تھا کہ جس نے سوویت یونین اورکچھ دیگرسوشلسٹ ممالک کےخلاف اعتقادی جنگ کرنے کے لیے تمام ترقی یافتہ اعتقادی نظریات کےخاتمے اور امپریالزم کی حمایت کے لیےاپنےاتحادی کےعنوان سے وہابیت کے شدت پسندانہ نسخہ کا انتخاب کیا تھا۔

رشیہ ٹوڈے نے ۲۸ مارچ ۲۰۱۸ء کو بن سلمان سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سرد جنگ میں سوویت یونین کے اتحاد کا مقابلہ کرنے کرنے لیے ریاض سے مغربی ممالک کی درخواست کے نتیجےمیں سعودی بجٹ کے ذریعے وہابیت کو فروغ دیا گیا ہے۔

سعودی ولی عہد کے بقول اس ملک کے مغربی اتحادیوں نے سرد جنگ کے دوران دیگرممالک میں مساجد اورمدارس میں سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا تھا تاکہ مسلمان ممالک میں سوویت یونین کی مداخلت کا راستہ روکا جاسکے۔

بہرحال یہاں پرجس چیز کی اہمیت ہے وہ یہ ہےکہ وہابیت کے فروغ کےآغاز سےلےکر بہت سے ممالک یکے بعد دیگرے زوال کا شکارہوتے رہے ہیں اوررعب اوروحشت باعث بنی ہےکہ انڈونیشیا جیسا ملک ۱۹۶۵ کے بعد سے یا پھرمغرب کے حملے بعد عراق، مغرب کی مداخلت سے پہلے کے دورکی طرف پلٹ نہیں سکے ہیں۔

اس رپورٹ کی بنا پر برطانوی حکام نےمحمد بن عبدالوہاب کے تعاون سے تحریک وہابیت کی پیدائش  میں اہم کردارادا کیا تھا کہ جو اس پورے دورمیں ایک بنیاد پرست مبلغ تھا۔

برطانوی اوروہابی اتحاد کی بنیاد اس پرقائم ہے کہ لوگوں کے نام نہاد مذہبی راہنماوں کو خوفناک اور غیرمنطقی خوف میں مبتلا کرنا اورآخرکارانہیں تسلیم کرنا ہے۔ بنابریں ایک معتدل معاشرے کی ایجاد کے لیے تمام کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں اورفقط کچھ ایسےممالک اس نتیجے پرپہنچے ہیں کہ وہابیت خدا اورلوگوں کی خدمت کی بجائےمغربی مفادات کی خدمت کررہی ہے۔

اس وقت انڈونیشیا سےہٹ کرعراق اورافغانستان میں یہ عمل جاری ہے اوراگرشام شکست کھاتا ہے تو اس کی تقدیربھی اسی کی منتظرہے یہی وجہ ہےکہ مغرب اورسعودی عرب کی شہہ پروہابی دہشتگرد شامی حکومت اورعوام کے ساتھ لڑرہے ہیں۔

پاکستان کے ایک معروف مسلمان عالم دین زین الدین سردارکہ جو اس وقت لندن میں مقیم ہیں، نے اس بارے میں کہا ہے کہ بے شک وہابیت، مغرب کی استعماری اورامپریالزم کی سوچ کا نتیجہ ہے۔

۷۰۸۵۸۰

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

سردارحسین سلامی:

مشترکہ زندگی کی بنیاد محبت اوردرگزرپرقائم ہے

خبررساں ایجنسی شبستان: سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کےکمانڈران چیف نےاس مطلب کہ اسلام اورایران نے ہمیں ایک واحد جسم کےعنوان آپس میں جوڑا ہوا ہے،کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشترکہ زندگی کی بنیاد محبت اوردرگزرپرقائم ہے۔

منتخب خبریں