خبرگزاری شبستان

سه شنبه ۳ مهر ۱۳۹۷

الثلاثاء ١٥ المحرّم ١٤٤٠

Tuesday, September 25, 2018

وقت :   Thursday, May 31, 2018 خبر کوڈ : 72505

کریم اہل بیت (ع) کا دیگرکریم افراد سے فرق
خبررساں ایجنسی شبستان: آپ مسلمانوں اورلوگوں ک ساتھ اتنی شفقت اورمحبت سے پیش آتےتھے کہ جب کوئی شخص آپ کے گھرجاتا تو واپسی پر اتنی زیادہ نعمتوں سے مالا مال ہوجاتا کہ پھراس میں فقر اورغربت کے کوئی اثرات نہیں دیکھے جاتے تھے۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کے مطابق پندرہ رمضان المبارک کو امام حسن علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے حوزہ  ویونیورسٹی کےمحقق اوراستاد حجۃ الاسلام والمسلمین محمود اباذری سے گفتگو کی گئی ہےکہ جس کا خلاصہ قارئین کے پیش خدمت ہے:

انہوں نے کہا ہے کہ امام حسن علیہ السلام چالیس ہجری کو سال امام علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد امامت کے عہدے پرفائزہوئے تھے اورآپ کی امامت کی مدت دس سال تھی اورآخرکار پچاس ہجری کو ۴۷یا ۴۸ سال کی عمرمیں بنی امیہ کے فاسد اورفاسق کارندوں  کی سازشوں سے اپنے گھرمیں شہید کردیے گئے تھے۔

امام حسن علیہ السلام کی ایک اہم اورنمایاں خصوصیت سخاوت اورلوگوں پرآپ کا فضل وکرم تھا۔ جو بھی مدینہ میں داخل ہوتا اورکسی مشکل میں دوچارہوتا تو وہ آپ کے گھرمیں آتا اورآپ سے بے نیاز کرکے واپس بھیجا کرتے تھے۔

روایا ت میں آیا ہےکہ آپ نے اپنی پوری زندگی میں تین مرتبہ اپنے پورے مال کو اللہ کی راہ میں تقسیم کردیا تھا۔ آپ کے فضائل کا ایک اوراہم نکتہ معاویہ کے ساتھ صلح کرنا تھا۔اس مطلب کی طرف توجہ رہے کہ امام حسن علیہ السلام کا ہراقدام یہاں تک کہ شہادت بھی اسلام اوراسلامی اقدارکی بقا کے لیے تھی۔ بےشک اگراسلام اورمسلمین کی مصلحت نہ ہوتی تو آپ کبھی معاویہ کے ساتھ صلح نہ کرتے۔کیونکہ ایک جانب آپ کے ساتھ مسلسل جنگوں سے تنگ آچکے تھے اوردوسری جانب یہودی اورعیسائی بھی عالم اسلام کے خراب حالت کو دیکھ کر اس کےخلاف اقدامات کرنے کے درپے تھے اوران کے ساتھ آپ کےلشکرکے سرداروں اورکمانڈروں کی غداری اورسستی باعث بنی تھی کہ آپ معاویہ کے ساتھ صلح کرنے پرمجبورہوگئے تھے۔

مرحوم شیخ صدوق لکھتے ہیں معاویہ کے ساتھ صلح کے بعد امام حسن علیہ السلام کے ساتھیوں نے امام پراعتراض کیا کہ آپ نے فتنہ وفساد کے اس جراثیم کے ساتھ کیوں صلح کی ہے ؟تو آپ علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: کیا میں تمہارا امام اوراللہ کا جانشین نہیں ہوں؟ اگرتم میرا مقام سمجھتے ہو تو جان لو کہ اس پوری زمین میں جہاں پربھی چلے جاو تو اس صلح کے ذریعے جو خیروبرکت میں نے تمہارے اورشیعوں کے لیے فراہم کی ہے اسے کسی مقام نہیں پاسکتے ہو۔ یہ نکتہ زمین پراللہ کے ولی کی کفایت اورعصمت کے بلند مقام کو بیان کرتا ہے کہ امام اورخلیفہ الہی ہرگزنفسانی خواہشات اورامن پسندی کی خاطرکوئی کام انجام نہیں دیتا ہے۔ اس کے بعد امام حسن علیہ السلام نے  صلح کے معاہدے پراعتراض کرنے والوں کی طرف رخ کرکے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ ہم سب کی گردن پرطاغوت اورظالم کے ساتھ عہدوپیمان کی ذمہ داری رکھی گئی ہے اورہمارے پاس نرمی سے پیش آنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے، جان لو کہ یہ امرہمارے قائم علیہ السلام کے قیام تک جاری رہےگا اورفقط وہی ذات ہوگی کہ جو اللہ کی مشیت سے کسی ظالم اورطاغوت کے عہدوپیمان کا ذمہ دارنہیں ہوگا اوروہی ہیں کہ جو آخرکارپوری دنیا پرحق اورحقیقت کا پرچم لہرائیں گے۔

۷۰۸۵۲۳

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

حجت الاسلام صادقی:

حضرت امام زمان(عج) کی حضرت علی اکبر(ع) سے شباہت

حجت الاسلام صادقی نے کہا حضرت علی اکبر(ع) کی خصوصیات میں سے ہے کہ ہمیشہ حالت جنگ میں رہتے تھے اور اس سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں ہے کہ انسان اپنے زمانے کے امام کی شناخت کے بعد اپنی جان کو اپنے امام کیلئے قربان کرے۔

منتخب خبریں