خبرگزاری شبستان

سه شنبه ۳ مهر ۱۳۹۷

الثلاثاء ١٥ المحرّم ١٤٤٠

Tuesday, September 25, 2018

وقت :   Sunday, June 03, 2018 خبر کوڈ : 72527
حجۃ الاسلام غلام حسین مرتضوی پناہ:
جاہل انسان،دنیا کی زندگی کےمقابلےمیں آخرت کی زندگی کو فروخت کردیتا ہے
خبررساں ایجنسی شبستان: حوزہ علمیہ کےمعلم اخلاق نےکہا ہےکہ سب سے پہلی چیزجو اللہ کا نیک بندہ بننےمیں رکاوٹ بنتی ہے ،جہالت ہے اوریہ جہالت دنیا کے مقابلے میں آخرت کی فروخت کا سبب بنتی ہے۔

خبررساں ایجنسی شبستان شعبہ اصفہان کی رپورٹ کے مطابق حجۃ الاسلام والمسلمین غلام حسین مرتضوی پناہ نےدینی مدرسہ مجتہدہ امین کی طالبات کے اجتماع میں درس اخلاق دیتےہوئے کہا ہے کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ کا نیک بندہ بننے کےلیےانسان کے سامنے پانچ رکاوٹیں ہیں۔ لہذا اگرکوئی اللہ کا نیک بندہ بننا چاہتا ہے تو اسےاپنےسامنے سےان پانچ رکاوٹوں کو ہٹانا چاہیے۔ یہ جو ہم نماز میں کہتے ہیں(صراط الذین انعمت علیھم) یعنی پروردگارمجھے ان لوگوں کے راستے پرقائم رکھ کہ جن پرتونے انعام کیا ہے۔ اب سوال یہ ہےکہ یہ کون سے لوگ ہیں؟ تو فرمایا:(انعم الله علیهم من النبیین و الصدیقین والشهداء و الصالحین) اگرانسان اللہ کے نیک اورصالح بندوں میں سے ہوجائے تو وہ انبیاء اورصدیقین کے ساتھ مل جائے گا کہ جن کا ایک مصداق حضرت علی علیہ السلام کی ذات گرامی ہےاورشہداء کا  ایک مصداق امام حسن علیہ السلام اورامام حسین علیہ السلام ہیں۔

انہوں نے مزید کہا ہےکہ اگرہم صالحین کے مقام پرفائزہوجائیں تو امام زمانہ علیہ السلام اپنی نمازمیں  ہمیں سلام کرتے ہیں خواہ ہم متوجہ ہوں یا نہ ہوں۔(السلام علینا وعلی عباداللہ الصالحین)۔ پس اگرہمارا شمارصالح بندوں میں سے ہوجائے تو ہمارا مقام بہت بلند ہوجائے گا۔ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: اگریہ پانچ رکاوٹیں نہ ہوتیں تو لوگ اللہ کے نیک بندے بن چکے ہوتے۔

حجۃ الاسلام مرتضوی پناہ نےکہا ہےکہ اللہ کا نیک بندہ بننے میں سب سے پہلی رکاوٹ جہالت ہے۔ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دورمیں لوگوں کی جہالت عام تھی اورآنحضرت لوگوں کی جہالت کے ساتھ جہاد کرنے کے لیےہی تو مبعوث ہوئے تھے۔ امیرالمومنین علیہ السلام کے دورمیں بھی لوگوں کی جہالت میں اضافہ ہوچکا تھا یہی وجہ ہےکہ لوگوں نے آپ کو پچیس سال تک خانہ نشین کردیا تھا اوران کےعلم سے استفادہ نہیں کرتے تھے۔

انہوں نے روایت کی بنا پرجاہل انسان کی چارصفات کو بیان کرتے ہوئےکہا ہےکہ جاہل انسان کی پہلی صفت یہ ہےکہ وہ کسی سےمشورہ نہیں کرتا ہے، وہ اپنے آپ کو عقل کل سمجھتا ہے۔ دوسری صفت یہ ہےکہ وہ نصیحت کو قبول نہیں کرتا ہے اورجاہل انسان کو جو بھی نصیحت کی جائے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ سورہ مبارکہ ملک کی آیت نمبر۱۰ میں اہل جہنم کے جہنمی ہونے کی دلیل  کے بارے میں فرماتی ہے:«لو کنا نسمع او نعقل ما کنّا فی اصحاب السعیر»۔

اس معلم اخلاق نےمزید کہا ہےکہ جاہل شخص کی دیگرصفت یہ ہے کہ وہ دنیا کے مقابلےمیں اپنی آخرت کو فروخت کردیتا ہے اوردنیا تک پہنچنے کے لیے آخرت کو قربان کردیتا ہے اوراس کا ایک واضح نمونہ  عمرسعد ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اللہ کا نیک بندہ بننےمیں رکاوٹ ایک اورچیز کنجوسی ہےاورکنجوس آدمی کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ سلام نہیں کرتا ہے۔اللہ کا نیک بندہ بننےمیں ایک اوررکاوٹ خود پسندی اور غرور ہے۔ پانچویں رکاوٹ دنیا کا حریص ہونا ہے،لالچی انسان انتہائی پست اورگھٹیا ہوتا ہے۔

۷۰۹۰۹۷

 

 

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

حجت الاسلام صادقی:

حضرت امام زمان(عج) کی حضرت علی اکبر(ع) سے شباہت

حجت الاسلام صادقی نے کہا حضرت علی اکبر(ع) کی خصوصیات میں سے ہے کہ ہمیشہ حالت جنگ میں رہتے تھے اور اس سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں ہے کہ انسان اپنے زمانے کے امام کی شناخت کے بعد اپنی جان کو اپنے امام کیلئے قربان کرے۔

منتخب خبریں