خبرگزاری شبستان

چهارشنبه ۴ مهر ۱۳۹۷

الأربعاء ١٦ المحرّم ١٤٤٠

Wednesday, September 26, 2018

وقت :   Monday, June 18, 2018 خبر کوڈ : 72582
مصطفیٰ دلشاد تہرانی:
امیرالمومنین(ع) کا اقربا پروری جیسے مسئلےکےساتھ برتاو
خبررساں ایجنسی شبستان: امیرالمومنین امام علی علیہ السلام رشتہ داری ، ارتباط اورپیروکاری کی بنا پرکسی کو کوئی خاص مقام عطا نہیں کیا کرتے تھے اوربنیادی طورپران کی حکومت کی ڈکشنری میں ایسا لفظ موجود نہیں تھا کیونکہ وہ اس چیزکو تمام لوگوں کےحقوق اوران کی حرمت اورکرامت پرواضح ڈاکہ قراردیتے تھے۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق قرآن وحدیث یونیورسٹی کےعلمی بورڈ کے رکن مصطفی دلشاد تہرانی کے ٹیلیگرام پرآیا ہے:

امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کی سیرت طیبہ ایسی تھے کہ وہ اپنے رشتہ داروں اورحامیوں کو قانون کی خلاف وزری اورامتیازی مقام حاصل کرنےکی کسی صورت میں اجازت نہیں دیتے تھے۔ امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کا اپنےبھائی عقیل کے ساتھ برتاو اس حوالے سےایک واضح اور نمایاں نمونہ ہے۔ دیگرافراد کی طرح عقیل بھی بیت المال سے اپنا حصہ وصول کرچکےتھے لیکن وہ اپنے آپ کو حاکم کا بھائی جانتے تھے اورانہیں توقع تھی کہ امیرالمومنین علیہ السلام اس کا خیال رکھیں گے اوران کے لیےایک خاص حصہ مقررکریں گےاورانہیں دیگرلوگوں پرفوقیت دیں گے۔ امام علی علیہ السلام نے ان کی درخواست اوراپنی سیرت طیبہ کے منظرکو اس طرح پیش کیا ہے:

«وَ اللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ عَقِيلاً، وَ قَدْ أَمْلَقَ حَتَّى اسْتَمَاحَنِي مِنْ بُرِّكُمْ صَاعًا؛ وَرَأَيْتُ صِبْيَانَهُ شُعْثَ الشُّعُورِ غُبْرَ الاَلْوَانِ مِنْ فَقْرِهِمْ كَأَنَّمَا سُوِّدَتْ وُجُوهُهُمْ بالْعِظْلِمِ؛ وَعَاوَدَنِي مُؤَكِّدًا وَ كَرَّرَ عَلَيَّ الْقَوْلَ مُرَدَّدًا. فَأَصْغَيْتُ إِلَيْهِ سَمْعِي،فَظَنَّ أَنِّي أَبِيعُهُ دِينِي، وَ أَتَّبِعُ قِيَادَهُ مُفَارِقًا طَرِيقِي؛ فَأَحْمَيْتُ لَهُ حَدِيدَةً مُفَارِقًا طَرِيقِي؛ فَأَحْمَيْتُ لَهُ حَدِيدَةً ثُمَّ أَدْنَيْتُهَا مِنْ جِسْمِهِ لِيَعْتَبِرَ بِهَا. فَضَبحَّ ضَجِيجَ ذِي دَنَفٍ مِنْ أَلَمِهَا، وَ كَادَ أَنْ يَحْتَرِقَ مِنْ مِيْسَمِهَا. فَقُلْتُ لَهُ : ثَكِلَتْکَ الثَّوَاكِلُ يَا عَقِيلُ، أَتَئِنُّ مِنْ حَدِيدَةٍ أَحْمَاهَا إِنْسَانُهَا لِلَعْبِهِ، وَ تَجُرُّنِي إِلَى نَارٍ سَجَرَهَا جَبَّارُهَا لِغَضَبِهِ. أَتَئِنُّ مِنَ الاَذَى وَ لاَ أَئِنُّ مِنْ لَظَى؟!»/ نهج البلاغه ، کلام ۲۲۴

اللہ کی قسم میں نے(اپنےبھائی) عقیل کو سخت فقروفاقہ کی حالت میں دیکھا یہاں تک کہ وہ تمہارے(حصہ کی) گندم میں سے تین کلو مجھ سےمانگتے تھےاورمیں نےان کے بچوں کو بھی  دیکھا جن کے بال بکھرے ہوئےاورفقروبے نوائی سے رنگ تیرگی مائل ہوچکےتھےگویا ان کے چہرے نیل چھڑک کرسیاہ کردیئےگئے ہیں، وہ اصرار کرتے ہوئے میرے پاس آئے اوراس بات کو بارباردہرایا۔ میں نے ان کی باتو ں کو کان دے کرسنا تو انہوں نے یہ خیال کیا کہ میں ان کے ہاتھ اپنا دین بیج ڈالوں گا اوراپنی روش چھوڑ کران کی کھینچ تان پران کے پیچھے ہوجاوں گا مگرمیں نےکیا یہ کہ ایک لوہے کےٹکڑے کو تپایا اورپھران کے جسم کے قریب لےگیا تاکہ عبرت حاصل کریں۔ چنانچہ وہ اس طرح چیخے جس طرح کوئی بیماردرد وکرب سےچیختا ہے اورقریب تھا کہ ان کا بدن اس داغ دینے سےجل جائے پھرمیں نے ان سے کہا کہ اے عقیل رونے والیاں تم پرروئیں کیا تم اس لوہےکے ٹکڑے سےچیخ اٹھے ہوجسےایک انسان نے ہنسی مذاق میں( بغیرجلانےکی نیت کے) تپایا ہے اورتم مجھےاس آگ کی طرف کھینچ رہے ہوکہ جسےخدائےقہارنےاپنےغضب سے بھڑکایا ہے۔ تم تو اذیت سےچیخو اورمیں جہنم کے شعلوں سے نہ چلاوں؟ (نہج البلاغہ، خطبہ ۲۲۱ ترجمہ مفتی جعفرحسین مرحوم)

 امیرالمومنین امام علی علیہ السلام رشتہ داری ، ارتباط اورپیروکاری کی بنا پرکسی کو کوئی خاص مقام عطا نہیں کیا کرتے تھے اوربنیادی طورپران کی حکومت کی ڈکشنری میں ایسا لفظ موجود نہیں تھا کیونکہ وہ  اس چیز کو تمام لوگوں کے حقوق اوران کی حرمت اورکرامت پرواضح ڈاکہ قراردیتے تھے۔

 ۷۰۵۷۱۶

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

حجت الاسلام صادقی:

حضرت امام زمان(عج) کی حضرت علی اکبر(ع) سے شباہت

حجت الاسلام صادقی نے کہا حضرت علی اکبر(ع) کی خصوصیات میں سے ہے کہ ہمیشہ حالت جنگ میں رہتے تھے اور اس سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں ہے کہ انسان اپنے زمانے کے امام کی شناخت کے بعد اپنی جان کو اپنے امام کیلئے قربان کرے۔

منتخب خبریں