خبرگزاری شبستان

چهارشنبه ۴ مهر ۱۳۹۷

الأربعاء ١٦ المحرّم ١٤٤٠

Wednesday, September 26, 2018

وقت :   Thursday, June 21, 2018 خبر کوڈ : 72612

جنت البقیع کو کیوں اورکس طرح مسمار کیا گیا ہے؟
خبررساں ایجنسی شبستان: ابن تیمیہ کے پیروکاراوران کےسرفہرست محمد بن عبدالوہاب جب حجاز میں برسراقتدارآئےتو انہوں نے(بولہیت عبداللہ بن سلیمان) نامی شخص سے فتویٰ لیا اورپھر اس کے بعد مدینہ کےعلماء کو فتویٰ دینے پرمجبورکیا ۔ ۔ ۔

 اسلامی تاریخ اوراعتقادات کےمحقق اورالمصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کےاستاد حجۃ الاسلام سید محمد رضا آل عیوب نےخبررساں ایجنسی شبستان کے نامہ نگارسےگفتگو کے دوران بقیع کا لغوی معنیٰ بیان کرتے ہوئےکہا ہےکہ ڈکشنری میں بقیع کا معنی ایک وسیع وعریض سرزمین ہےکہ جس میں بڑے بڑے درخت اگے ہوئے ہوں۔ ماضی میں بقیع کے ساتھ (عرقد) لفظ بھی استعمال کیا جاتا تھا کیونکہ اس میں موجود درختوں پربہت زیادہ کانٹے ہوا کرتے تھے۔ اسلام اورپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے قبل یثرب بالخصوص اوس ، خزرج اوردیگرقبائل کے مردے یہاں پردفن کیے جاتے تھے۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت اوربدراوراحد کی جنگوں کے بعد آنحضرت نے ان جنگوں کے بعض شہداء کو اس مقام پردفن فرمایا تھا۔ سرزمین بقیع ایک ایسی سرزمین ہےکہ جس میں بہت سےصحابہ اوراہل بیت عصمت وطہارت کی کچھ شخصیات دفن ہیں۔ امام حسن علیہ السلام وہ پہلے امام ہیں کہ جنہیں اس زمین میں دفن کیا گیا تھا اور ایک نقل کےمطابق اس جگہ پرعقیل کا گھرہوا کرتا تھا اورجو آہستہ آہستہ وسیع ہوتا گیا اورپھر اس میں امام زین العابدین علیہ السلام، امام محمد باقرعلیہ السلام اورپھرامام صادق علیہ السلام بھی اسی سرزمین پردفن کیے گئے۔

حوزہ اوریونیورسٹی کے استاد نےکہا ہےکہ ائمہ اطہارعلیہم السلام سے پہلےپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےچچا عباس بھی اس جگہ پردفن تھے اورآج بھی ائمہ اطہارعلیہم السلام کی قبورمطہرکے سامنے ان کی قبرکو دیکھا جاسکتا ہے۔ اسی طرح اسی مقام پرحضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی والدہ گرامی حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا سے منسوب ایک قبربھی موجود ہے۔ البتہ یہ ساری قبریں تقریبا ۳۷ سے ۴۰ میٹر کے رقبےمیں موجود ہیں۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ ایک نقل کے بعد بقیع میں ائمہ اطہارعلیہم السلام کے دفن سے قبل پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دس سے بارہ ہزارسے زائد صحابہ اورتابعین بھی اسی سرزمین میں دفن تھے۔ بنابریں اس زمین میں اولیائے الہی کی قبروں کےپیش نظر اہل بیت علیہم السلام کے چاہنے والےاوراہل سنت بھی اس مقام پرخصوصی توجہ دیتے تھے۔ لیکن آٹھ شوال ۱۳۴۵ہجری قمری کو پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اوران کی اہل بیت علیہم السلام کے دشمنوں کی جانب سے ایک سازش کےتحت کچھ لوگ اہل بیت علیہم السلام کی قبورمطہر یہاں تک کہ پیغمبراسلام سے منسوب مقامات کو منہدم کرنےکےدرپے ہوگئے تھے۔

حجۃ الاسلام آل عیوب نےمزید کہا ہےکہ اس اقدام کا مقصد دین کو نقصان پہنچانے کےعلاوہ تاریخ اسلام کو فراموش کردینا بھی تھا۔ دیگرادیان میں بھی جن افراد نے اپنےدین اورمذہب کی خدمت کی ہے اگران کے پاس اپنے دین کی کوئی چھوٹی سی چیزمثال کے طورپرقمیض اورتلواروغیرہ بھی باقی بچی ہو تو اس کے دین کے پیروکاراسےعظیم شمارکرتے ہیں اورایک گرانقدرچیزکےعنوان سے اس کی حفاظت کرتے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہےکہ ابن تیمیہ کے پیروکار اوراس کا ایک خاص شاگرد ابن جوزیہ اورپھرمحمد بن عبدالوہاب جنب حجاز میں برسراقتدارمیں آئے تو انہوں نے(بولہیت عبداللہ بن سلیما) نامی ایک شخص سے فتویٰ لیا اورپھرمدینہ کےعلماء کو فتویٰ دینے پرمجبورکیا کہ قبروں کی زیارت،ان کے ساتھ کھڑے ہوکر نماز پڑھنا اورقبورسے توسل کرنا شرک اورحرام ہے اوران تاریخی آثارکا خاتمہ ہونا چاہیے۔ اس طرح ۱۳۴۴ یا ۱۳۴۵ہجری قمری کو ان مبارک اور مقدس تاریخی آثارکو منہدم کردیا گیا ۔

اسلامی علوم کےاس محقق نے اسلامی آثارکے خاتمےکو اس کام  کا مقصد بتاتے ہوئےکہا ہے کہ ان کا ہدف اورمقصد فقط اہل بیت علیہم السلام اوران کے پیروکارنہیں تھے بلکہ وہ تمام اسلامی آثارکو مٹانےکے درپے تھےکیونکہ بقیع میں موجود ائمہ اطہارعلیہم السلام کی قبروں کی علاوہ دیگربزرگوں کی قبریں بھی موجود تھیں کہ جن پرحملے کیے گئے تھے۔ ان میں حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کی والدہ گرامی حضرت ام البنین علیہا السلام، امام صادق علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسماعیل کی قبر،پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے اٹھارہ مہینےکے بیٹے حضرت ابراہیم کی قبربھی موجود تھی کہ جنہیں وہابیوں نے منہدم کردیا تھا۔ بنابریں اس مطلب پرتوجہ دینی چاہیے کہ وہابیت نہ فقط شیعوں اوراہل بیت علیہم السلام کے چاہنے والوں بلکہ تمام مسلمانوں اور اسلام کی اقدارکی مخالف اوران سے دشمنی رکھتی ہے۔

انہوں نےکہا ہےکہ وہ جنت البقیع کو منہدم کرنے پراکتفاء نہیں کررہے تھے بلکہ وہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےحرم مطہرکو بھی منہدم کرنےکا ارادہ رکھتے تھے لیکن علمائے اسلام، مدینہ کےعلماء اورایران سمیت اسلامی ممالک کےعلماء کی مخالفت کی وجہ سے وہ یہ کام انجام نہ دے سکے۔ البتہ اپنے اس کام کی اس طرح وجہ بیان کرتےہیں کہ چونکہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبران کی زوجہ کے گھرمیں تھی اوراس سے قبل یہ مقام ایک گھرتھا۔ لہذا ہم وہاں پرحملہ نہیں کریں گےاورہماری مراد وہ قبریں ہیں کہ جن پربعد یں بارگاہ اورگنبد بنائے گئے ہیں۔

حوزہ ویونیورسٹی کےاس استاد نےمزید کہا ہےکہ اہل بیت علیہم السلام کی قبورکےعلاوہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےعظیم صحابی عثمان بن مظعون، فاطمہ بنت اسد، سعدبن معاذ، پیغمبرکے چچا عباس اورحلیمہ سعدیہ کی بھی قبروں کو بھی منہدم کردیا گیا ہے۔عثمان بن مظعون پہلے مہاجر تھےکہ جنہوں نے وفات پائی تھی اورروایات کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےان کے چہرے سے کفن ہٹا کر چہرے پربوسہ دیا تھا اوراسی طرح سعد بن معاذ بھی وہ عظیم صحابی تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن کے بارے میں فرمایا تھا کہ سعد، کفار کےگلےکی ہڈی تھے۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ جنت البقیع میں ان تمام بزرگوں کے روضےموجود تھےکہ جنہیں وہابیوں نے منہدم کردیا تھا۔ وہابیوں نےمدینہ سےباہر بھی اس قسم کے مظالم ڈھائے ہیں کہ جن میں سے ایک مقام احد کا قبرستان  تھا اوروہاں پرحضرت حمزہ علیہ السلام کی قبرتھی۔

حجۃ الاسلام آل عیوب نے آخرمیں کہا ہے کہ یہ مقامات، اولیائے الہی کی قبریں تھیں اوریہ ایسی شخصیات ہیں کہ جن کی شٰخصیت اوراہمیت سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی ہےکیونکہ یہ ایسی شخصیات ہیں کہ جن کی زندگی اورموت کے بعد بھی جن کے وسیلے سےاللہ کی عنایات اورالطاف لوگوں کے شامل ہوتی ہیں۔ ایک اورقابل غورنکتہ یہ ہےکہ ائمہ اہل بیت علیہم السلام کےعلاوہ  دس سے بارہ ہزارصحابہ اورتابعین بھی بقیع میں دفن ہیں کہ جن کے روضو ں کو مسمارکردیا گیا ہے۔

711734

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

حجت الاسلام صادقی:

حضرت امام زمان(عج) کی حضرت علی اکبر(ع) سے شباہت

حجت الاسلام صادقی نے کہا حضرت علی اکبر(ع) کی خصوصیات میں سے ہے کہ ہمیشہ حالت جنگ میں رہتے تھے اور اس سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں ہے کہ انسان اپنے زمانے کے امام کی شناخت کے بعد اپنی جان کو اپنے امام کیلئے قربان کرے۔

منتخب خبریں