خبرگزاری شبستان

چهارشنبه ۴ مهر ۱۳۹۷

الأربعاء ١٦ المحرّم ١٤٤٠

Wednesday, September 26, 2018

وقت :   Wednesday, July 04, 2018 خبر کوڈ : 72642

امام صادق(ع) کےکلام میں عصرغیبت کےطولانی ہونے کا راز
خبررساں ایجنسی شبستان: امام صادق علیہ السلام سےنقل ہونےوالی روایت کےمطابق غیبت اور ظہورسے دورہونےکی ایک دلیل آپ کے ساتھی ہیں کہ اگرمیں ضروری خصوصیات ہوتیں توغیبت اتنی طولانی نہ ہوتی۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کےمطابق روایات میں امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت اور اس کی مدت کے طولانی ہونےکےبارے میں متعدد دلیلوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہےکہ ان پرتوجہ دینے اورانہیں برطرف کرنےکی صورت میں ظہور کے نزدیک ہونےکی امید کی جاسکتی ہے۔

امام صادق علیہ السلام کے ایک صحابی نےآپ کی خدمت میں عرض کیا: میں آپ پرقربان جاوں اللہ کی قسم میں آپ سے محبت کرتا ہوں اورجو بھی آپ سے محبت کرتا ہے میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ اے میرے مولا آپ کے شیعہ کتنے زیادہ ہیں۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: انہیں گن کر بتاو۔

میں نےعرض کیا: بہت زیادہ ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: کیا تم انہیں گن سکتے ہو؟

میں نے عرض کیا: وہ گنتی سےباہرہیں۔

امام علیہ السلام نےفرمایا: لیکن اگر وہ تین سو کچھ افراد کی تعداد مکمل ہوجائے تو ہو جو چاہتے ہیں متحقق ہوجائے گا۔

ایک اورروایت میں آیا ہے: خراسان کا ایک شخص امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضرہوکر عرض کرتا ہے کہ آپ قیام کیوں نہیں کرتے ہیں؟ آپ  کے بہت زیادہ شیعہ ہیں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: شیعوں کی کثرت؟ اس وقت ہارون مکی نامی ایک صحابی داخل ہوئے تو سلام کے بعد امام علیہ السلام نے اس سے فرمایا: اس تنور میں چلے جاو اورہارون مکی اس میں داخل ہوگیا جبکہ تنور میں آگ جل رہی تھی۔ امام علیہ السلام اس خراسانی شخص سے گفتگو کرنے لگے۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: دیکھیں تنورکےاندرکیا خبرہے؟ جا کردیکھا تو ہاروں مکی تنورکے اندرصحیح وسالم بیٹھا ہوا ہے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: تمہارے شہرمیں اس مرد جیسے کتنے افراد موجود ہیں؟ اس نے عرض کیا: کوئی بھی نہیں۔

کتاب زبورنور(ہزارویک نکتہ از زندگانی امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) سے اقتباس

۷۱۴۳۵۹

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

حجت الاسلام صادقی:

حضرت امام زمان(عج) کی حضرت علی اکبر(ع) سے شباہت

حجت الاسلام صادقی نے کہا حضرت علی اکبر(ع) کی خصوصیات میں سے ہے کہ ہمیشہ حالت جنگ میں رہتے تھے اور اس سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں ہے کہ انسان اپنے زمانے کے امام کی شناخت کے بعد اپنی جان کو اپنے امام کیلئے قربان کرے۔

منتخب خبریں