خبرگزاری شبستان

چهارشنبه ۴ مهر ۱۳۹۷

الأربعاء ١٦ المحرّم ١٤٤٠

Wednesday, September 26, 2018

وقت :   Tuesday, July 10, 2018 خبر کوڈ : 72708

پیغمبراکرم(ص) کا گانے والےخاتون سے برتاو
خبررساں ایجنسی شبستان: یہ عورت جب مکہ میں گانے گاتی تھی تو بھی پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد لیا کرتی تھی اورآنحضرت اسے پناہ دیا کرتے تھے۔ جنگ بدرکے دو سال بعد سارہ مکہ سے مدینہ آئی اورسیدھی پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی تو آپ نے اس سے فرمایا: کیا تم مسلمان ہوگئی ہو؟

اس نے کہا : نہیں

کیا تم دین اسلام قبول کرنے کےلیے مدینہ میں آئی ہو؟ ا

اس نے کہا: نہیں

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس کس لیے مدینہ آئی ہو؟

اس نے عرض کیا: آپ ہمیشہ میری پناہ گاہ اورمیرے حامی رہے ہیں، اس وقت مجھے آپ کی حمایت کی ضرورت ہے، لہذا میں آپ سے مدد لینےکےلیےآئی ہوں؛ میرے پاس نہ لباس ہے، نہ سواری اورنہ ہی پیسے ہیں کہ جن سے اپنی زندگی گزارسکوں۔

آپ نے فرمایا: تم تو مکہ میں جوانوں کے لیےگانا گایا کرتی تھی، اب کس طرح محتاج ہوگئی ہو؟

اس نےعرض کیا: جنگ بدرکے بعد کوئی اس سےگانا سننے نہیں آتا، سب لوگوں نے مجھے فراموش کردیا ہوا ہے لہذا میری زندگی انتہائی سخت گزررہی ہے۔

پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھروالوں کو حکم دیا کہ اس عورت کی مدد کریں۔ انہوں نےمدد کی اوراسے لباس، سواری اورپیسے دیے۔

یہ عجیب وغریب روایت ہے!!

ایک یہ کہ جب یہ عورت مکہ میں تھی تو گانا گایا کرتی تھی تو اس وقت بھی پیغمبرسے مدد لیا کرتی تھی اورآپ سے پناہ دیا کرتے تھے۔ دوسری بات یہ کہ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ وعدہ کرو کہ گانا نہیں گاو گی تاکہ میں تیری مدد کروں بلکہ آپ نے اس کی مدد کرنے کا حکم دیا ۔ تیسری بات یہ کہ وہ ابھی تک مشرک تھی اوروہ مسلمان ہونا بھی نہیں چاہتی تھی، وہ آئی اورمدد لے کرچلی گئی!

پروردگارا ہماری کونسی چیز تیرے پیغمبرکے مشابہ ہے؟

 ماخذ : علامه ﻣﺤﻤﺪﺭﺿﺎ ﺣﮑﯿﻤﯽ، ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺍﺳﻼﻣﯽ، ﺑﺨﺸﯽ ﺍﺯ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺤﯿﺎﺓ ﺟﻠﺪ ﻧﻬﻢ، ﺹ ۲۳۲، ﻧﺸﺮ ﺍﻟﺤﯿﺎﺓ، ﭼﺎﭖ ﺍﻭﻝ، ۱۳۹۱، به نقل از ﻣﺠﻤﻊ ﺍﻟﺒﯿﺎﻥ، ۹/۲۷۰

عصرایران نامی سائٹ سے استفادہ

۷۱۵۰۷۵

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

حجت الاسلام صادقی:

حضرت امام زمان(عج) کی حضرت علی اکبر(ع) سے شباہت

حجت الاسلام صادقی نے کہا حضرت علی اکبر(ع) کی خصوصیات میں سے ہے کہ ہمیشہ حالت جنگ میں رہتے تھے اور اس سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں ہے کہ انسان اپنے زمانے کے امام کی شناخت کے بعد اپنی جان کو اپنے امام کیلئے قربان کرے۔

منتخب خبریں