خبرگزاری شبستان

سه شنبه ۲۰ آذر ۱۳۹۷

الثلاثاء ٣ ربيع الثاني ١٤٤٠

Tuesday, December 11, 2018

وقت :   Tuesday, July 17, 2018 خبر کوڈ : 72779

حضورقلب کے مقابلےمیں قوہ خیال کی بیہودگی
خبررساں ایجنسی شبستان: حواس باختہ ہونے کا اصلی اوربنیادی سبب قوہ خیال کی بیہودگی اوراس کا فرارکرنا ہے۔ انسان ایک ایسی قوت کا مالک ہے کہ جو ہمیشہ اس کے ذہن اورخیال کو استعمال کرتی ہے۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کے مطابق حواس باختہ ہونےکا اصلی اوربنیادی سبب قوہ خیال کی بیہودگی اوراس کا فرارکرنا ہے۔ انسان ایک ایسی قوت کا مالک ہےکہ جو ہمیشہ اس کےذہن اور خیال کو استعمال کرتی ہے۔ اگرکلی موضوعات کے بارے میں انسان کا ذہن منظم اورمرتب سرگرمیاں انجام دے تو اس صورت میں تعقل اورتفکر حاصل ہوتا ہے لیکن اگر انسان کا ذہن کسی نظم وضبط کے بغیرجزئی موضوعات میں ایک چیز سے دوسری چیز اورایک جگہ سے دوسری جگہ کی طرف پرواز کرے اورپھرذہن میں آنے والےموضوعات کے درمیان منطقی ارتباط قائم نہ کرے تو اس وقت یہ ایک تخیل پیدا ہوتا ہے۔ قوہ خیال کی ایک خصوصیت اس کا فرارکرنا اورمتحرک ہونا ہے کیونکہ اگرتفکر اورتعقل نہ ہو تو کچھ لمحات کے دوران بغیرکسی ارتباط کے انسان کے ذہن میں ہزاروں مسائل ایک دوسرکے ساتھ مل جاتے ہیں۔ قوہ خیال کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ جزئی موضوعات میں استعمال ہوتا ہے اوراس میں ایک خاص قسم کی بدنظمی پائی جاتی ہے۔

اگرچہ ابتداء میں دیگرامورکی طرح حضورقلب کا حصول مشکل نظرآتا ہے تاہم یہ محال نہیں ہے اوراس کی قدوقیمت اوراہمیت بھی یہی ہے کہ یہ مشکل سے حاصل ہوتا ہے جیسا کہ امیرالمومنین علی علیہ السلام نے فرمایا:(افضل الاعمال ما اکرهت نفسک علیه)  بہترین کام یہ ہےکہ اپنے آپ کو اس کام پرمجبورکرو۔

حضورقلب کے مراتب کے بارے میں اہل معرفت سے بہت زیادہ مطالب ہم تک پہنچے ہیں۔ ہم ان کے گرانقدرمطالب سےالہام لیتے ہوئے حضورقلب کے پانچ مراتب کو بیان کرنے پراکتفا کرتے ہیں۔

پہلا مرتبہ: نمازی کو اجمالی طورپرمعلوم ہونا چاہیے کہ وہ اپنے رب کے ساتھ ہمکلام ہے اوراس کی تعریب وتمجید کررہا ہے۔ اگرچہ وہ الفاظ کے معانی پرتوجہ نہیں دیتا ہے۔ البتہ یہ مرتبہ ان افراد کے لیے ہے کہ جو نماز کے معانی نہیں جانتے۔

دوسرا مرتبہ: پہلے والے والے مرحلے کےعلاوہ کلمات اوراذکارکے معانی پربھی توجہ رکھے اوراسے معلوم ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:(مَن صَلّی رَکعَتَینِ یَعلَمُ مایَقولُ فِیهما اِنصَرَفَ وَ لَیسَ بَینَه وَ بَینَ اللهِ - عَزَّ وَ جَلَّ – ذَنبٌ الّا غَفَر لَهُ ) جو شخص دو رکعت نمازپڑھےجبکہ وہ جانتا ہو کہ کیا کہہ رہا ہے تو جب وہ نماز سےفارغ ہوتا ہےتو اللہ اوراس کے درمیان کوئی گناہ باقی نہیں رہتا ہے مگریہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کردیتا ہے۔

تیسرا مرتبہ : عبادات کے اسرا راوراذکار، تسبیح اورتحمید کی حقیقت اوردیگرتمام مفاہیم کو سمجھے۔

چوتھا مرتبہ: سابقہ مراحل کے علاوہ نمازی اذکارکے اسراراورحقائق کو مکمل طورپراپنے اندر محسوس کرے اوریقین اورکامل ایمان کے مرحلے پرفائز ہوجائے۔

پانچواں مرحلہ: اس مرحلے میں نمازی کشف وشہود اورحضورکامل کے مرتبے پرفائزہوجاتا ہے ۔ اس مرحلےکوعبادت میں حضور قلب کی بجائےمعبود میں حضورقلب کا نام دیتے ہیں ۔ یعنی یہ ایک ایسا مرحلہ ہے کہ جس میں وہ اپنی باطنی آنکھ سے حق تعالی کے اسماء،کمالات اوراس کی صفات  کا مشاہدہ کرتا ہے اوراللہ کےعلاوہ کسی اورچیز کو نہیں دیکھتا ہے۔

۷۱۴۷۶۳

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز

سماجی: اسلامی جمہوریہ ایران کے شہر بندرعباس میں 8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز ہوچکا ہے جس میں دنیا بھر سے مسلمان دانشور، علماء، مفکرین اور عمائدین شرکت کررہے ہیں۔

منتخب خبریں