خبرگزاری شبستان

دوشنبه ۲۹ مرداد ۱۳۹۷

الاثنين ٩ ذو الحجّة ١٤٣٩

Monday, August 20, 2018

وقت :   Wednesday, July 18, 2018 خبر کوڈ : 72793

منتظرین کے لیےاصحاب کہف کا ورثہ
خبررساں ایجنسی شبستان: اصحاب کہف کا ہنریہ تھا کہ وہ فاسد اورگمراہ معاشرے میں ہضم نہیں ہوئے تھے اورجب انہوں نے دیکھا کہ شہرکے تمام لوگ منحرف ہوگئے ہیں اوران کی اصلاح کی کوئی امید نہیں ہے تو انہوں نے کہا: ہم فاسد اورگمراہ معاشرے کی لذت اورسہولیات سے چشم پوشی کرکےغارکی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ ہم دین کی ٖحفاظت کرسکیں۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کے مطابق سورہ کہف کی آیت نمبر۱۳ میں آیا ہے:(نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَأَهُمْ بِالْحَقِّ إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى)ہم آپ کوان کا حقیقی واقعہ سناتے ہیں، وہ کئی جوان تھے جو اپنے رب پرایمان لےآئے تھی اورہم نے انہیں مزید ہدایت دی۔

نکات

۱۔ اصحاب کہف کی داستان اہم اورمفید ہےکیونکہ اہم اورقابل توجہ خبرکو(نباء) کہتے ہیں۔

۲۔ (فتیہ)، (فتی) کی جمع ہے کہ جس کا معنی جوان ہے۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: فتی، باایمان انسان کو کہا جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کو ان کے ایمان کی وجہ سے فتی کہا ہے اگرچہ وہ بڑی عمرکے افراد تھے۔(۱)

۳۔ اصحاب کہف کی داستان میں الہی قدرت اورارادہ، شجاعت، دنیا سے منہ موڑنا، ہجرت، تقیہ، الہی امداد اورحلال غذا جیسے مسائل بیان ہوئے ہیں۔

۴۔ اصحاب کہف، انقلابی، مہاجراورمومن افراد تھے کیونکہ وہ اللہ پرایمان رکھتے تھے اورشرک  کے سامنے سرتسلیم خم نہیں ہوئے اورہجرت کرگئے۔ وہ کسی سے بھی وابستہ نہیں تھے اوراخلاص کے ساتھ اللہ کی بندگی کرتے تھے۔

۵۔ اصحاب کہف کا کمال یہ تھا کہ وہ فاسد اورگمراہ معاشرے میں ہضم نہیں ہوئے تھے اورجب انہوں نے دیکھا کہ شہرکے تمام لوگ منحرف ہوگئےہیں اوران کی اصلاح کی کوئی امید نہیں ہے تو انہوں نے کہا: ہم فاسد اورگمراہ معاشرے کی لذت اورسہولیات سے چشم پوشی کرکے غارکی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ ہم دین کی ٖحفاظت کرسکیں۔

۶۔ فساد اورفاسد معاشرے کے حوالے سے لوگ تین قسم کے ہیں:

کچھ لوگ معاشرے کے فساد میں ہضم ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا ایمان کامل نہیں ہے اوروہ اپنے دین کی حفاظت نہیں کرسکتے ہیں لیکن ہجرت بھی نہیں کرتے ہیں اوران کی زبان حال یہ ہے:«وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ»(1)

کچھ لوگ فاسد معاشرے میں اپنے آپ کی حفاظت کرتے ہیں کہ جیسا کہ اصحاب کہف نے کیا تھا : (إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ)۔

کچھ لوگ فاسد معاشرے کوتبدیل کردیتے ہیں اوراس کی اصلاح کرتے ہیں؛ جیسا کہ انبیاء اوراولیاء نے کیا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بتوں کو توڑا تھا توجب پوچھا گیا کہ کس نے بتوں کو توڑا ہے؟ توجواب دیا گیا:«یُقالُ لَهُ إِبراهیم» ایک ایسا جوان ہے کہ جسے ابراہیم کہتے ہیں۔(۲)

۷۔ روایات میں آیا ہے کہ اصحاب کہف، حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے اصحاب میں سے ہوں گے۔(۳)

۸۔ انسان کی حرکت اورکوشش اس کی ہدایت اورترقی کا سبب بنتی ہے:(آمَنوُا بِربِّهم وَ زِدناهُم هُدی)

۹۔ ایک چھوٹے گروہ کا بھی قائد اوررہبرہونا چاہیے۔ اصحاب کہف کے درمیان ایک ایسا شخص تھا کہ جو امرونہی کیا کرتا تھا۔(«قالَ قائِلُ... فَبعَثوُا)۔

۱۰۔ کئی سو سالہ کی بیداری کے بعد اصحاب کہف نے ایک دوسرے سے پوچھا: ایک شخص جائے اورہمارے لیے پاک وپاکیزہ غذا لےکرے آئے۔(۴) یہ خیال نہ کریں کہ اگرہم نے خمس اورسہم امام زمانہ علیہ السلام نہ دیا تو ہم بہت ہوشیاروچالاک ہیں۔

مآخذ:

1.سوره مدثر، آیه 45

2.سوره انبیا، آیه 60

3.منتخب الاثر، ص485

4. «فَابْعَثُوا أَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هَذِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلْيَنْظُرْ أَيُّهَا أَزْكَى طَعَامًا فَلْيَأْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِنْهُ». سوره کهف، آیه ۱۹

حسن ملائی کی کوششوں سے تحریرکردہ محسن قرائتی کی کتاب( پرتوی از آیہ ھای مھدوی) سے اقتباس

۷۱۶۴۸۲

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

امام محمد باقرعلیہ السلام کی شب شہادت، ایران اسلامی سوگوار و عزادار

خبررساں ایجنسی شبستان فرزند رسول حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام کی شب شہادت کی مناسبت سے ایران کے سبھی چھوٹے بڑے شہروں کی مساجد اور امام بارگاہوں اور مقدس مقامات میں مجالس عزا کا انعقاد کیا گیا ہے جہاں علماء و ذاکرین خطاب کر رہے ہیں.

منتخب خبریں