خبرگزاری شبستان

جمعه ۲۷ مهر ۱۳۹۷

الجمعة ٩ صفر ١٤٤٠

Friday, October 19, 2018

وقت :   Thursday, July 19, 2018 خبر کوڈ : 72807
آیت اللہ مصطفی علما:
ثقافتی کاموں کی بنیاد قرآن کریم پراستوارہونی چاہیے
خبررساں ایجنسی شبستان: ایران کے شہرکرمانشاہ کےامام جمعہ نےکہا ہےکہ کوئی کام بھی قرآن کریم جیسی طاقت اورتوانائی رکھتا ہے۔ لہذا ہمیں قرآن کریم سے تمسک کرکے اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔

خبررساں ایجنسی شبستان شعبہ کرمانشاہ کی رپورٹ کےمطابق ایران کے صوبہ کرمانشاہ کے نمائندہ ولی فقیہ آیت اللہ مصطفی علما نے ۱۸ جولائی کو قرآنی مقابلوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہےکہ جس چیز نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سکون عطا کیا تھا اورآپ انتہائی آرام وسکون سےاس دنیا سےچلے گئے تھے وہ دوچیزیں تھی ایک کتاب الہی اوردوسری اہل بیت علیہم السلام۔

انہوں نے مزید کہا ہےکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جانتے تھےکہ ۲۳سال کی تبلیغ اور رسالت کے بعد کونسی چیز ہمارے درمیان چھوڑیں کیونکہ ان دو گرانقدرامانتوں کی وجہ سے اسلامی شریعت نورانی رہ سکتی ہے اوردنیا کو چیلنج کرسکتی ہے۔

آیت اللہ علما نےکہا ہے کہ اس وقت جو واحد چیز مسلمانوں اوربشریت کا ہاتھ پکڑسکتی ہے وہ کتاب الہی اوراس کے مفسرین ہیں۔ بنابریں قرآن کریم بشریت کےلیےایک عظیم سرمایہ ہے۔

انہوں نےمزید کہا ہےکہ قرآن کریم نہ فقط مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کا سرمایہ ہے۔ جیسا کہ ہم قرآنی خطابات میں دیکھتے ہیں کہ یہ فقط اسلام اورمسلمانوں سے مربوط نہیں ہیں بلکہ تمام انسانوں کو مخاطب قراردیا گیا ہے اوریہ چیزقرآن کریم کی طاقت اورتوانائی کی دلیل ہے۔

کرمانشاہ شہرکے امام جمعہ نےکہا ہے کہ فطرت، مسلمانوں سےمربوط نہیں ہے، بعض افراد نے اپنی فطر ت کو تباہ کردیا ہےلیکن جب تک مخالفت اورگناہ کی وجہ سےفطرت کا خاتمہ نہ ہو قرآن کا خطاب بھی اسی فطرت سے مربوط ہے۔

انہوں نےمزید کہا ہے کہ قرآن کریم کا خطاب انسان کے گوشت اورہڈیوں سے مربوط نہیں ہے کہ جو انسان کی موت کے بعد ختم ہوجاتا ہے بلکہ یہ خطاب ابدیت اورانسان کی حقیقت سے مربوط ہے۔

۷۱۶۷۸۷

 

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز

سماجی: اسلامی جمہوریہ ایران کے شہر بندرعباس میں 8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز ہوچکا ہے جس میں دنیا بھر سے مسلمان دانشور، علماء، مفکرین اور عمائدین شرکت کررہے ہیں۔

منتخب خبریں