خبرگزاری شبستان

سه شنبه ۲۰ آذر ۱۳۹۷

الثلاثاء ٣ ربيع الثاني ١٤٤٠

Tuesday, December 11, 2018

وقت :   Tuesday, July 31, 2018 خبر کوڈ : 72965

امام زمانہ(عج) کی غیبت کا فلسفہ
خبررساں ایجنسی شبستان: عصرغیبت کی پوری تاریخ میں ایک یہ سوال کیا جاتا ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کیوں غائب ہوگئےہیں اورہم ان سےارتباط کیوں قائم نہیں کرسکتے ہیں؟

خبررساں ایجنسی شبستان نے آیت اللہ ناصرمکارم شیرازی کی سائٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اس سوال قرآن کریم اوراسلامی روایات کی بنا پر امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی غیبت کا فلسفہ کیا ہے؟ کے جواب میں آیا ہے:

مجمل جواب:

ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اورپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانی تاریخ کے اختتام پرتمام ادیان پراسلام کےغلبےکی خبر دی ہوئی ہے؛ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ائمہ اطہارعلیہم السلام کو یکے بعد دیگرے لوگوں کی ہدایت کے لیے بھیجا  لیکن وہ سب کے سب شہید کردیے گے۔ لہذا ایک مصلحت کے تحت بارہویں امام کو غائب کردیا گیا ہے تاکہ امام غائب کے لیےعالمی قیام کے حالات فراہم ہوسکیں۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ امام غائب ہوگئے تاکہ ان کی گردن پرکسی کی بیعت نہ ہو۔

تفصیلی جواب:

عصرغیبت کی پوری تاریخ میں ایک یہ سوال کیا جاتا ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کیوں غائب ہوگئے ہیں اورہم ان سے ارتباط کیوں قائم نہیں کرسکتے ہیں؟

اس سوال کےجواب کےلیےابتداء میں کچھ مقدماتی امورکو بیان کرنا ضروری ہے کہ جو ہمیں حتمی اوریقینی نتیجے پرپہنچائیں گے:

۱۔ اللہ تعالیٰ اورپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےانسانی تاریخ کےاختتام پرتمام ادیان پر دین اسلام کےغلبے کی خبردی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:«هُوَ الَّذی اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدى‏ وَ دینِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهُ عَلَى الدِّینِ کُلِّهِ وَ لَوْ کَرِهَ الْمُشْرِکُونَ»(1) اپنے رسول کو ہدایت اوردین حق کےساتھ  اسی نےبھیجا ہےتاکہ اسے ہردین پرغالب کردے اگرچہ مشرکین کو برا ہی لگے۔

۲۔ لوگوں کےحالات کےمختلف ہونے کی وجہ سے ان کی مصلحتیں بھی تبدیل ہوجاتی ہیں؛ اللہ تعالیٰ نے بندوں کےامورکی تدبیراوران کی مصلحت کو اپنےذمہ لیا ہوا ہے، ان کی عقلوں کو کامل کرکے انہیں نیک اعمال انجام دینےکا حکم دیا ہوا ہے تاکہ اس طرح وہ سعادت کی منزل پرفائزہوسکیں۔ اب اگرلوگ اللہ تعالیٰ کےاحکام پرعمل کریں تو اللہ کےلیےان کی مدد کرنا ضروری ہےاوران پراپنی عنایات نازل کرکےان کی راہ کو آسان بنائے۔ لیکن اگرانہوں نےاس کےاحکام اوردستورات کی مخالفت کی تو بندوں کی مصلحت تبدیل ہوجاتی ہے اورپھراس کےنتیجےمیں صورتحال بھی تبدیل ہوجائےگی۔ اللہ تعالیٰ ان سےاپنی توفیق چھین لےگا اوروہ ملامت اورسرزنش کےمستحق ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نےائمہ اطہارکو یکے بعد دیگرلوگوں کی ہدایت کے لیے بھیجا لیکن جب لوگوں نےان کی مخالفت کی اوروسیع پیمانے پران کا خون بہایا گیا تو معاملہ الٹ ہوگیا اورپھرمصلحت یہ ٹھہری کہ لوگوں کا امام غائب ہوجائے۔

۳۔ بے شک ہرسماجی کام کے لیےشرائط اورحالات کا آمادہ ہونا ضروری ہے؛ لہذا امام منتظرہیں تاکہ عالمی قیام کے لیےشرائط اورحالات مہیا ہوں۔

۴۔ بے شک عصرظہورمیں غالب دین کو ایک غالب امام اورقائد کی ضرورت ہے کہ جو غیرمعمولی قدرت، جامع اورکامل علم اورعصمت جیسی شرائط کا مالک ہو اوراللہ تعالیٰ نے اس طرح انہیں مقررہ دن کے لیےبچا کےرکھا ہوا ہے۔

۵۔ شیعہ اورسنی کی متواترروایات کے مطابق پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےاپنے بعد قیامت تک کے لیےبارہ ائمہ کا تعارف کروایا ہوا ہے کہ جو ان کے بعد یکے بعددیگرے آئیں گے۔(۲)

۶۔ روایات کے مجموعہ اورعقلی دلیلوں سےاستفادہ ہوتا ہےکہ قیامت تک کےلیے زمین پرحجت الہی اورامام معصوم کی بقاء کا مسئلہ ایک ضروری مسئلہ ہے۔ مرحوم کلینی نےابوحمزہ سےنقل کیا ہے کہ انہوں نے امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا: کیا زمین امام کے بغیرباقی رہ سکتی ہے؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا:«لَوْ بَقِیَتِ الْاَرْضُ بِغَیْرِ اِمَامٍ لَسَاخَت‏ْ»(3) اگرامام کے بغیرزمین باقی رہے تو وہ تباہ وبرباد ہوجائے گی۔

۷۔ انبیاء اوررسولوں کےگوشہ نشین ہونےکا ایک سبب اپنی جان کے قتل کا خوف اوراپنی شریعتوں کی ترویج کی امید تھا۔ امام مہدی علیہ السلام بھی اپنی نصرت اورمدد کے لیےاسباب کےنہ ہونے اورقتل کےخوف سے اللہ تعالیٰ کےحکم سے پردہ غیبت میں چلےگئے ہیں۔ امام صاد ق علیہ السلام نے زرارہ سے فرمایا:«لِلْقَائِمِ غَیْبَهٌ قَبْلَ قِیَامِهِ قُلْتُ وَ لِمَ؟ قَالَ یَخَافُ عَلَى نَفْسِهِ الذَّبْحَ»(4) قائم کے قیام سے پہلےان کی ایک غیبت ہے۔ زرارہ کہتے ہیں: میں نےامام علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: کس وجہ سے؟ تو آپ نے فرمایا: کیونکہ وہ اپنے قتل سے ڈرتے ہیں۔

۸۔ شیخ صدوق نےامام  صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہےکہ آپ نے فرمایا:«یَقُومُ الْقَائِم(علیه السلام)‏ وَ لَیْسَ لِاَحَدٍ فِی عُنُقِهِ بَیْعَهٌ»(5)

  قائم علیہ السلام اس وقت قیام کریں گے کہ جب ان کی گردن پرکسی کی بیعت نہ ہوگی۔

۹۔ ہدایت کی اقسام:

الف) فطری ہدایت:«فَاَقِمْ وَجْهَکَ لِلدِّینِ حَنیفاً فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتی‏ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْها لا تَبْدیلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذلِکَ الدِّینُ الْقَیِّمُ وَ لکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لا یَعْلَمُونَ»(6)پس(اے نبی) یکسو ہوکر اپنا رخ دین(خدا) کی طرف مرکوز رکھیں،(یعنی) اللہ کی اس فطرت کی طرف جس پراس نے سب انسان کو پیدا کیا ہے، اللہ کی تخلیق میں تبدیلی نہیں ہے،یہی محکم دین ہے لیکن اکثرلوگ نہیں جانتے۔

ب) ہدایت تشریعی: کہ جو معاشرے میں امام علیہ السلام کی موجودگی پرقائم ہے تاکہ وہ لوگوں کی قریب سے ہدایت کریں:«کانَ النَّاسُ اُمَّهً واحِدَهً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِیِّینَ مُبَشِّرینَ وَ مُنْذِرینَ وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْکِتابَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فیمَا اخْتَلَفُوا فیهِ وَ مَا اخْتَلَفَ فیهِ ...»(7) لوگ ایک ہی دین (فطرت) پرتھے،(ان میں اختلاف رونما ہوا) تواللہ نے بشارت دینے والے اورتنبیہ کرنے والے انبیاء بھیجےاوران کے ساتھ برحق کتاب نازل کی تاکہ وہ لوگوں کے درمیان ان امورکا فیصلہ کریں جن میں وہ اختلاف کرتے تھے ۔ ۔ ۔

ج) ہدایت تکوینی: کہ جو وہی نظام خلقت میں تصرف اورتدبیر کرنا ہے:«قالَ الَّذی عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنَ الْکِتابِ اَنَا آتیکَ بِهِ قَبْلَ اَنْ یَرْتَدَّ اِلَیْکَ طَرْفُکَ فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهُ قالَ هذا مِنْ فَضْلِ رَبِّی لِیَبْلُوَنی‏ اَ اَشْکُرُ اَمْ اَکْفُرُ ... »(8) جس کے پاس کتاب میں سے کچھ علم تھا وہ کہنےلگا: میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلےاسےآپ کے پاس حاضرکردیتا ہوں،جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس نصب شدہ دیکھا تو کہا: یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ وہ مجھےآزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران؟۔ ۔ ۔)

د) ہدایت باطنی: کہ جو ولایت تکوینی کا ایک شعبہ ہےاوریہ مطلوب تک پہنچانے کے معنی میں ہے:«وَ جَعَلْناهُمْ اَئِمَّهً یَهْدُونَ بِاَمْرِنا وَ اَوْحَیْنا اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْراتِ وَ اِقامَ الصَّلاهِ وَ ایتاءَ الزَّکاهِ وَ کانُوا لَنا عابِدین»(9) اورہم نے انہیں پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے مطابق راہنمائی کرتے تھے اورہم نے نیک عمل کی انجام دہی اورقیام نماز اورادائیگی زکواۃ کے لیے ان کی طرف وحی کی اوروہ ہمارے عبادت گزارتھے۔

 مذکورہ تمام مقدماتی امورمیں غوروفکرکرنےکےبعد اس نتیجے پرپہنچتے ہیں کہ امام زمانہ علیہ السلام  کو مقررہ دن تک پردہ غیبت میں رہنا چاہیے تاکہ اس وقت اللہ تعالیٰ کےحکم سے انسان کی ہدایت کےلیے ظہورکریں۔(۱۰)

مآخذچ:

(1). سوره توبه، آيه 33؛ سوره صف، آيه 9.

(2). صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله البخاري الجعفي، تحقيق: مصطفى ديب البغا، دار ابن كثير، اليمامة، بيروت، 1407 قمری – 1987 میلادی، الطبعة: الثالثة، ج 6، ص 2640.

(3). الكافي، كلينى، محمد بن يعقوب بن اسحاق‏، محقق / مصحح: غفارى على اكبر و آخوندى، محمد، دار الكتب الإسلامية، تهران، ‏ ‏1407 قمری، چاپ: چهارم، ج ‏1، ص 179، (باب أن الأرض لا تخلو من حجة)، ح 10.

 

(4). كمال الدين و تمام النعمة، ابن بابويه، محمد بن على‏، محقق / مصحح غفارى، على اكبر، اسلاميه‏، تهران،‏ 1395 قمری‏، چاپ: دوم‏، ج ‏2، ص 481، (باب علة الغيبة)، ح 10.

(5). كمال الدين و تمام النعمة، همان، ص 480، (باب علة الغيبة).

(6). سوره روم، آيه 30.

(7). سوره بقره، آيه 213.

(8). سوره نمل، آيه 40.

(9). سوره انبيا، آيه 73.

(10). موعود شناسی و پاسخ به شبهات، رضواني، علی اصغر، مسجد مقدس جمکران، قم، چاپ هفتم، 1390 ش، ص 388.

۷۱۸۹۵۴

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز

سماجی: اسلامی جمہوریہ ایران کے شہر بندرعباس میں 8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز ہوچکا ہے جس میں دنیا بھر سے مسلمان دانشور، علماء، مفکرین اور عمائدین شرکت کررہے ہیں۔

منتخب خبریں