خبرگزاری شبستان

چهارشنبه ۲ آیان ۱۳۹۷

الأربعاء ١٤ صفر ١٤٤٠

Wednesday, October 24, 2018

وقت :   Tuesday, September 18, 2018 خبر کوڈ : 73207

عراق میں جرمن حکام کی دلچسپی
بین الاقوامی: جب تک عراق میں تیل کی پیداوار موجود ہے یورپی یونین کی دلچسپی کردستان کی ہمکاری کے ساتھ باقی رہے گی۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے سابق صدر جارج بش کی عراق پر بمباری کو 15 سال گذر چکے ہیں جو کہ عراقی صدر صدام کی نابودی کا باعث بنا۔ عراق کی یہ طولانی جنگ آخر کار ختم ہوگئی لیکن لالچی یورپی ممالک کا اس ملک میں داخلی جنگ سے استفادہ کرتے ہوئے تیل کے ذخیروں پر ان کا کنٹرول اب بھی جاری ہے۔

جب امریکی افواج نے پہلی بار مارچ 2003 میں عراق پر حملہ کیا ایسے ملک سے سامنا ہوا جو پابندیوں اور جنگ کی وجہ سے بہت کمزور ہوچکا تھا اس دوران عراق میں روزانہ ایک ملین بیرل تیل کی پیداوار تھی۔

عراق دیوالیہ ہوچکا تھا ایسا ملک جو تیل کی پیداوار کرنے والا دنیا کا پانچواں بڑا ملک تھا لہذا آئندہ سالوں میں عراق تیل کی پیداوار کرنے والا دنیا کا سب سے اہم ترین ملک بن سکتا ہے البتہ یہ اس وقت ممکن ہے جب عراق کے تین شمالی صوبوں میں تیل کی پیداوار کو بڑھایا جائے اور یہ علاقہ کردستان کا ہے اور تقریبا اس علاقے میں پچاس لاکھ کے قریب لوگ زندگی گزاررہے ہیں۔

جرمنی کے وزیردفاع نے اس بارے میں کہا کہ ہم ایک ملک کی تمام امور میں از سر نو تعمیر کے متعلق بات کرتے ہیں عراق کو اس وقت ہرممکن ترقی اور اقتصادی ترقی کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا داعش نے عراق کو تہس نہس کردیا ہے کہ جن کو ترمیم کی ضرورت ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ سب اقدامات صرف دہشت گردوں سے مقابلہ یا عراق کی امنیت یا کردستان سے ہمکاری کیلئے نہیں تھے بلکہ ان لوگوں کی جیبوں کو پُر کرنا تھا کہ جن کی نگاہیں عراق میں تیل پر تھیں۔

728245

 

تبصرے

نام :
ایمیل:(اختیاری)
رائے ٹیکسٹ:
ارسال

تبصرے

سروس کی خبروں کی سرخیاں

8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز

سماجی: اسلامی جمہوریہ ایران کے شہر بندرعباس میں 8ویں بین الاقوامی کانگریس امام سجاد(ع) کا آغاز ہوچکا ہے جس میں دنیا بھر سے مسلمان دانشور، علماء، مفکرین اور عمائدین شرکت کررہے ہیں۔

منتخب خبریں